ETV Bharat / health

سوتے وقت 19 سیکنڈ کا یہ فارمولہ آپ کو ہارٹ اٹیک سے بچا سکتا ہے، جانیں یہ کیسے کام کرتا ہے

ماہرین کے مطابق 19 سیکنڈ کے اس اصول پرعمل کرنے سے نہ صرف بہتر نیند آتی ہے بلکہ دل بھی مضبوط ہوتا ہے۔ مزید جانیں۔۔۔

سوتے وقت ہارٹ اٹیک سے بچنے کے لیے 19 سیکنڈ کے اس اصول پر عمل کریں
سوتے وقت ہارٹ اٹیک سے بچنے کے لیے 19 سیکنڈ کے اس اصول پر عمل کریں (Getty Images and Canva)
author img

By ETV Bharat Health Team

Published : February 23, 2026 at 9:48 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

کوئی نہیں جانتا کہ دل کا دورہ کب آئے گا، لیکن اس سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ سوتے ہوئے بھی آسکتا ہے۔ دل کے دورے اور فالج سے بچنے کے لیے باقاعدہ چیک اپ ضروری ہے۔ تو آئیے اس خبر میں سوتے وقت ہارٹ اٹیک سے بچنے کے طریقے جانتے ہیں۔

یہاں تک کہ جب جسم نیند کے دوران آرام کر رہا ہوتا ہے، دل اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عموماً نیند کے دوران بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن سست ہوجاتی ہے۔ تاہم بعض اوقات شریانوں میں رکاوٹ، ہائی بلڈ پریشر، یا دل کی بے قاعدگی جیسے مسائل نیند کے دوران ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ کہا جاتا ہے کہ نیند کے عارضے میں مبتلا افراد کو نیند کے دوران سانس لینے میں رکاوٹ کی وجہ سے دل پر زیادہ دباؤ پڑ سکتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے۔

ان طریقوں کو آزمانے سے دل کے دورے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے:

سانس لینا: ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے سے پہلے آہستہ، گہرے سانس لینے سے دماغ اور جسم پرسکون ہوتا ہے، تناؤ کم ہوتا ہے اور ہارٹ ریٹ کم ہوتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے، دل میں آکسیجن کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے، اور بہتر نیند کی وجہ بنتا ہے۔ باقاعدگی سے گہری سانس لینے سے دل کی بے قاعدہ دھڑکنوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

مشق کیسے کریں: ماہرین سونے سے پہلے گہری سانس لینے کی مشقیں تجویز کرتے ہیں، جیسے ڈایافرامیٹک سانس لینا یا 4-7-8 اصول۔ اس کا مطلب ہے 4 سیکنڈ کے لیے سانس لینا، 7 سیکنڈ کے لیے اسے روکنا، اور 8 سیکنڈ تک سانس چھوڑنا۔ کلیولینڈ کلینک کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس اصول پر باقاعدگی سے عمل کرنے سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوتے وقت ہارٹ اٹیک سے بچنے کے کئی اہم طریقے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں عام طور پر طرز زندگی میں تبدیلیاں اور غذائی احتیاطیں شامل ہوتی ہیں جو دل کے دورے کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔

متوازن غذا: ماہرین پھل، سبزیاں، سارا اناج، انڈے، گوشت اور کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ نمک، سیچوریٹیڈ چربی، ٹرانس چربی اور چینی کے کم استعمال کی بھی صلاح دیتے ہیں۔

باقاعدگی سے ورزش: ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش وزن کو کنٹرول کرنے، بلڈ پریشر کو کم کرنے، کولیسٹرول کو کم کرنے اور دوران خون کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین روزانہ کم از کم 30 منٹ کی اعتدال پسند ورزش کرنے کامشورہ دیتے ہیں جس میں پیدل چلنا، سائیکل چلانا، یا تیراکی شامل ہیں۔

تناؤ کو کم کریں: ماہرین کا کہنا ہے کہ یوگا، مراقبہ (Meditation) اور سانس لینے کی مشقیں تناؤ پر قابو پانے میں مدد دیتی ہیں، کیونکہ طویل مدتی تناؤ دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

کافی نیند لیں: ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات میں 7 سے 8 گھنٹے پر سکون نیند لینا ضروری ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہر روز ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا چاہیے۔ سلیپ فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ رات میں سات گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تمباکو نوشی اور شراب نوشی سے پرہیز کریں: ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی ہارٹ اٹیک کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ سگریٹ نوشی ترک کرنے سے دل کی بیماری کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ MayoClinic.com کا کہنا ہے کہ تمباکو میں موجود کیمیکل دل اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور سگریٹ کا دھواں خون میں آکسیجن کی سطح کو کم کرتا ہے، جس سے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شراب کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جو کہ دل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

(ڈسکلمیر: یہاں فراہم کردہ تمام صحت سے متعلق معلومات اور مشورے صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہیں۔ یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعات اور طبی اور صحت کے ماہرین کے مشورے پر مبنی ہیں۔ بہتر ہے کہ ان ہدایات پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔)

یہ بھی پڑھیں: