ETV Bharat / health

چار نئے میڈیکل کالجز کے باوجود جی ایم سی جموں پر دباؤ برقرار

جموں صوبے میں اکلوتا سپر اسپیشلٹی اسپتال ہونے کی وجہ سے جی ایم سی جموں کی ایمرجنسی میں ہر وقت مریضوں کا رش ہوتا ہے۔

جی ایم سی جموں
جی ایم سی جموں (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : April 7, 2026 at 6:47 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں(عامر تانترے): جموں خطے کے مختلف حصوں میں چند سال قبل چار نئے میڈیکل کالجز کے قیام کے باوجود گورنمنٹ میڈیکل کالج (GMC) جموں اب بھی صوبے کا اکلوتا بڑا (ٹیریشری کیئر) اسپتال ہے جہاں مریضوں کا رش وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑھتے رش کے باوجود عوام کی توقعات کو پورا کرنا جی ایم سی انتظامیہ خاص کر طبی و نیم طبی عملہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

چار نئے میڈیکل کالجز کے باوجود جی ایم سی جموں پر دباؤ برقرار (ای ٹی وی بھارت)

سال 2014 میں حکومت ہند نے جموں و کشمیر میں پانچ نئے میڈیکل کالج قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جن میں تین جموں خطے کے ڈوڈہ، راجوری اور کٹھوعہ میں جبکہ بعد ازاں دو میڈیکل کالجز کو بھی منظوری دی گئی، جن میں سے صرف ایک کالج کشمیر کے ہندوارہ اور دوسرا ادھم پور ضلع میں منظور کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر کالج 2019 کے بعد ہی فعال ہوئے اور اس وقت مریضوں کا علاج بھی کیا جا رہا ہے۔ لیکن سپر اسپیشلٹی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ڈوڈہ، ادھم پور، کٹھوعہ اور راجوری کے میڈیکل کالجز زیادہ تر مریضوں کو جی ایم سی، جموں ریفر کر دیتے ہیں۔

جی ایم سی، جموں، کے پرنسپل ڈاکٹر آشوتوش شرما نے ورلڈ ہیلتھ ڈے (World Health Day) کی نسبت سے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران بتایا کہ "روزانہ یہاں ایمرجنسی میں تقریباً 600 مریض آتے ہیں، جنہیں فوری اور خصوصی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "ایمرجنسی میں عملہ ہر وقت تیار رہتا ہے تاکہ مریضوں کو بہتر طبی خدمات فراہم کی جا سکیں، اس کے علاوہ او پی ڈی میں روزانہ تقریباً 5000 مریض آتے ہیں،جنہیں ہیلتھ کیئر فراہم کرنا اسپتال انتظامیہ خاص کر ڈاکٹروں اور عملے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔"

واضح رہے کہ یہ میڈیکل کالج 1973 میں قائم ہوا تھا اور ابتدا میں یہاں 900 بستروں کی گنجائش تھی۔ بخشی نگر، جموں میں واقع جی ایم سی میں 1700 بستروں کی سہولت ہیں۔ جبکہ اس سے منسلک اسپتالوں میں کل گنجائش 3000 سے زائد بستروں تک پہنچ چکی ہے۔

جی ایم سی، جموں، کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جن میں بنیادی ڈھانچے، آلات، عملے اور جگہ کی کمی جیسے مسائل شامل ہیں۔ کچھ ماہ قبل تک 639 فیکلٹی ممبران کی جگہ صرف 361 ہی موجود تھے۔ جبکہ صوبے میں صرف ایک MRI مشین نصب ہے جو جی ایم سی، جموں میں ہے۔ CT اسکین اور دیگر آلات کی کمی کی وجہ سے تشخیص کا عمل سست ہو جاتا ہے، جس سے مریضوں کا بیک لاگ، رش، روز افزوں بڑھ رہا ہے۔

چار نئے میڈیکل کالجز کے باوجود جی ایم سی جموں پر دباؤ برقرار
چار نئے میڈیکل کالجز کے باوجود جی ایم سی جموں پر دباؤ برقرار (ای ٹی وی بھارت)

ڈاکٹر آشوتوش شرما نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ اگرچہ ایک ہی MRI مشین ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن گزشتہ ڈھائی سال سے وہ مزید طبی آلات اسپتال لانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "ایک علیحدہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ بنانے کا بھی منصوبہ ہے، جہاں پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز اور دیگر عملہ مستقل طور پر تعینات ہوگا۔"

حکومت کی جانب سے نئے میڈیکل کالجز کے قایم کو درست قرار دیتے ہوئے پرنسپل نے کہا: "ان اداروں کا پورا فائدہ مستقبل میں عیاں ہوگا۔ا گر یہ کالج نہ ہوتے تو جی ایم سی جموں میں مریضوں کے لیے جگہ بھی نہ ہوتی۔" ان کے مطابق نئے کالجوں میں کچھ کمزوریاں ہیں، لیکن وقت کے ساتھ انہیں بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

جموں خطہ 10 اضلاع پر مشتمل ہے، جس کی آبادی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 53.50 لاکھ سے زیادہ ہے، اور ٹیریشری کیئر سہولیات کے لیے زیادہ تر لوگ جی ایم سی جموں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ بہتر خدمات کے لیے ابھی بھی کئی امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دو دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے صحت کے شعبے پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی روہت جندیال نے کہا کہ جی ایم سی، جموں کو تمام 10 اضلاع کے مریضوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، خاص طور پر ایمرجنسی وارڈ پر چوبیسوں گھنٹے بہت زیادہ دباؤ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ایک ایسا ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ ہونا چاہیے جہاں سینئر ڈاکٹرز ہر وقت موجود ہوں، کیونکہ اس وقت زیادہ تر کام رجسٹرارز اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ ہی انجام دیتے ہیں اور سینئر ڈاکٹرز صرف وزٹ پر آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جی ایم سی جموں کو تشخیص (ڈائگناسٹکس) اور مریضوں کی دیکھ بھال میں اپنی ساکھ بہتر بنانی ہوگی۔ باہر کے ڈاکٹر یہاں کے ٹیسٹ پر مکمل اعتماد نہیں کرتے، جس کی وجہ سے مریضوں کو دوبارہ باہر ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے PET اسکین کی قیمت کم کرنے اور MRI و CT مشینوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں:

صحت کا عالمی دن: آج بھی مریض علاج کے لئے گھنٹوں اور جراحی کی خاطر مہینوں انتظار پر کرنے مجبور