بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا، 19 دنوں میں 94 بچوں کی موت
بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے محمد یونس کی عبوری حکومت کو گذشتہ سال ویکسینیشن میں لاپرواہی کا الزام لگایا۔

Published : April 6, 2026 at 10:10 AM IST
ڈھاکہ: بنگلہ دیش نے اتوار کے روز کہا کہ خسرہ (روبیلا) کی شدید وبا نے گذشتہ 19 دنوں میں کم از کم 94 بچوں کی جانیں لے لیں، جس سے حکومت کو اس وبائی بیماری کے لیے ہنگامی علاج کی مہم شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس وباء نے 64 انتظامی اضلاع میں سے 56 کو متاثر کیا ہے۔
دریں اثنا بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمٰن کی حکومت نے محمد یونس کی عبوری حکومت کو خسرہ کی بروقت ویکسین فراہم کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (DGHS) نے کہا کہ خسرہ سے متعلق کل 94 اموات میں سے 10 موتیں اتوار کی صبح تک 24 گھنٹوں کے دوران ہوئیں جبکہ گذشتہ 19 دنوں کے دوران خسرے کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 5,792 ہو گئی۔ ان میں سے 974 کیسز کی تصدیق سنیچر کے بعد سے ہوئی ہے۔
"اس انتہائی متعدی بیماری میں اس سال، خاص طور پر مارچ سے تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔" ڈی جی ایچ ایس نے اپنے بیان میں گذشتہ سال ویکسینیشن نہ ہونے کو وبا میں اضافے کی وجہ بتایا۔
حکام نے بتایا کہ یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے اور اب تک 64 انتظامی اضلاع میں سے 56 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ ڈی جی ایچ ایس کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس وباء سے شمال مغربی راجشاہی علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں طبی ٹیموں نے نگرانی اور کیس کا پتہ لگانے کا کام تیز کر دیا ہے۔
وزیر صحت سردار سخاوت حسین بکل نے کہا کہ ہنگامی ویکسینیشن مہم جاری ہے اور اس وبا کے پورے بنگلہ دیش میں پھیلنے سے پہلے "سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں" میں ویکسینیشن کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں اور بوڑھوں کے لیے انتہائی خطرناک بیماری، بروقت علاج نہ کیا جائے تو چوبیس گھنٹے کے اندر ہو سکتی ہے موت
ایک متعلقہ پیش رفت میں رحمان حکومت نے یونس کی عبوری حکومت پر اس معاملے میں لاپرواہی کا الزام لگایا۔ وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا، "آپ اسے خسرہ کی روک تھام کے لیے مہم چلانے میں ماضی کی عبوری حکومت کی ناکامی یا غفلت کہہ سکتے ہیں۔"
حکمراں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امور صحت کے سیکرٹری محمد رفیق الاسلام نے بھی اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ خسرہ کی وباء "عبوری حکومت کی جانب سے وقت پر ویکسین فراہم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے پھیلی ہے۔" اسلام نے کہا کہ خسرہ کا پہلا کیس چار جنوری کو روہنگیا کیمپوں میں پایا گیا جب عبوری حکومت ابھی اقتدار میں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسے اس وقت صورت حال کا علم تھا لیکن بروقت موثر اقدامات نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ سے وبا میں اضافہ ہوا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار کے مطابق، بنگلہ دیش میں 2016 سے 2024 تک خسرہ کے خلاف ویکسینیشن کی کوریج 96 فیصد سے زیادہ تھی، اس سال جب طلبہ کی قیادت میں پرتشدد احتجاج نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
مزید پڑھیں: گردوں کی پتھری کے وجوہات، علامات اور احتیاطی تدابیر، ڈاکٹر محمد الطاف شاہ کی رہنمائی
محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ 2024 اور 2025 کے دوران بنگلہ دیش میں ویکسینیشن کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ اس دوران ملک عبوری حکومت چلا رہی تھی جب کہ اس سے قبل زیادہ تر بنگلہ دیشی بچوں کو وقت پر ویکسین ملی تھی۔
خسرہ کی قومی تصدیقی کمیٹی کے سربراہ محبوب الرحمان نے کہا کہ "ہم دسمبر 2025 تک خسرہ سے ہونے والی اموات کو صفر تک کم کرنے کے لیے پرعزم تھے لیکن ویکسینیشن کے ناقص پروگراموں کی وجہ سے ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔"
چونکہ یہ وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، آزاد ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ خسرہ کی جانچ یا تو نہیں کی جاتی ہے یا مریض جانچ سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
ناک میں انگلی ڈالنے کی عادت کئی سنگین بیماریوں کو دعوت دے سکتی ہے،آج ہی سے ترک کر دیں
دل کے والو کی بیماری ہارٹ اٹیک سے زیادہ خطرناک، یہ چھوٹی چھوٹی علامات نظر انداز نہ کریں

