سلمان خان نے 'بلیک ہرن' فلم کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا، 28 سال پرانے کیس کی مکمل کہانی جانیں
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے 'کالا ہرن' کے ٹیزر اور ریلیز پر روک لگانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

Published : June 12, 2026 at 6:11 PM IST
نئی دہلی: اداکار سلمان خان نے فلم 'کا لا ہرن: بیٹل فار لیگیسی' کے خلاف دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ فلم ان کی شخصیت اور تشہیر کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے ان کی ساکھ کے ساتھ ساتھ 1998 کے کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے معاملے سے متعلق جاری قانونی کارروائی پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے فلم کی پروڈکشن، پروموشن، اسٹریمنگ اور ریلیز پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اے این آئی کے مطابق، ہائی کورٹ میں جاری تجارتی مقدمے کے اندر ضابطہ دیوانی طریقہ کار کے قواعد 1 اور 2 کے تحت ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں فلم پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ہدایت کار بھارت سرینٹ، اکشے پانڈے، اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر افراد کو کیس کا فیصلہ آنے تک فلم بنانے، پروموشن، شیئر اسکریننگ، اسٹریمنگ یا ریلیز کرنے سے روکنے کے لیے عبوری حکم امتناعی کی درخواست کی گئی ہے۔
پٹیشن کے مطابق سلمان خان نے اس سے قبل 24 اپریل 2026 کو ایک قانونی نوٹس جاری کیا تھا، جس میں اس پروجیکٹ سے وابستہ افراد کو فلم بنانے پروڈیوس کرنے اور اس کی تشہیر سے باز رہنے کا کہا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوٹس کے باوجود تشہیری سرگرمیاں جاری رہیں، اداکار کے لیے فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت ہے۔
پٹیشن کے مطابق فلم اور اس کا تشہیری مواد 1998 کے کالے ہرن کے شکار کے کیس سے متعلق واقعات سے متاثر ہے یا اس پر مبنی ہے۔ اداکار کا استدلال ہے کہ اگرچہ اس کا نام واضح طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے، لیکن سامعین فلم کے پوسٹرز، مواد اور اس پروجیکٹ سے وابستہ افراد کے عوامی بیانات کے ذریعے اسے آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مئی 2026 میں ریلیز ہونے والے ایک پوسٹر میں سلمان خان سے ملتا جلتا ایک کردار دکھایا گیا تھا اور انہوں نے جس طرح کا ایک بریسلٹ پہنا ہوا تھا، جو کہ وہ پہنتے ہیں، جو کہ عوامی تصور میں اداکار کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہے۔ اس کردار کو ہتھیار پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ سلمان خان کو اس سے قبل آرمس ایکٹ 1959 کے تحت کارروائی سے بری کر دیا گیا تھا۔ اس طرح ایک بیانیہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جسے اداکار گمراہ کن قرار دیا ہے۔
اس معاملے کے بارے میں سلمان خان نے کہا ہے کہ یہ فلم ان مقدمات پر مبنی ہے جو اس وقت راجستھان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں قانونی کارروائی سے گزر رہے ہیں۔ ایسا مواد جاری کارروائی کو متاثر کر سکتا ہے اور منصفانہ ٹرائل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
درخواست میں پروڈیوسر امیت جانی کے میڈیا رپورٹس اور عوامی بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں مجوزہ فلم کو کالے ہرن کے شکار کیس اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے تنازعہ سے متاثر بتایا گیا ہے۔ اس میں انٹرویوز، سوشل میڈیا پوسٹس اور تشہیری مواد کا حوالہ دیا گیا ہے جو مبینہ طور پر فلم کو سلمان خان سے جوڑتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اکتوبر 1998 میں سلمان، سیف علی خان، تبو، نیلم کوٹھاری، سونالی بیندرے، کرشمہ کپور اور دیگر اداکار سورج برجاتیا کی فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوٹنگ کے لیے راجستھان کے شہر جودھ پور پہنچے۔
شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر جودھ پور کے قریب کالے ہرن کے شکار کا الزام لگایا گیا۔ مقامی بشنوئی برادری کی طرف سے پولیس میں شکایت درج کرائی گئی جس میں سلمان، سیف، سونالی، تبو اور نیلم کو ملزم نامزد کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کورٹ نے مرکزی ملزم سلمان خان کو مجرم قرار دیا جبکہ دیگر ملزمان سیف علی خان، بیندرے، تبو، نیلم اور مقامی رہائشی دشینت سنگھ کو بری کردیا۔ 20 سال بعد 5 اپریل 2018 کو راجستھان کی ایک ٹرائل کورٹ نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ اس کے بعد سیشن کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد انہیں جودھ پور جیل سے رہا کر دیا گیا۔

