ETV Bharat / business

بھارت-امریکہ معاہدہ: ٹرمپ نے بھارتی اشیاء پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ختم کر دیا

اضافی ٹیرف ہٹانے کے بدلے میں بھارت روسی تیل کی خریداری چھوڑ دے گا اور امریکہ سے 500 بلین ڈالر کی انرجی درآمد کرے گا۔

President Donald Trump speaks about TrumpRx in the South Court Auditorium in the Old Eisenhower Executive Office Building on the White House campus, Thursday, Feb. 5, 2026, in Washington, as National Design Studio director Joe Gebbia listens.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پانچ فروری 2026 کو وائٹ ہاؤس کیمپس میں منعقدہ ایک ایونٹ میں خطاب کرتے ہوئے (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 7, 2026 at 9:57 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف ہٹانے کا اعلان کیا۔ یہ محصول بھارت کی طرف سے روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے لگائی گئی تھی۔

امریکہ نے آج بروز سنیچر ایک بیان جاری کر کے کہا کہ بھارت نے روسی تیل کی براہ راست یا بالواسطہ خریداری بند کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس کے بعد امریکہ کی طرف سے بھارتی اشاء پر عائد اضافی 25 فیصد ٹیرف سنیچر (سات فروری) سے ہٹا دیے جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق بھارت نے اگلے 10 برسوں میں دفاعی تعاون کو بھی بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ کے اس فیصلے کو بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس اقدام سے امریکی مارکیٹ میں بھارت برآمدات کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

روس سے تیل کی درآمد پر بھارت کے موقف میں تبدیلی

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق بھارت نے امریکہ کو روس سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تیل کی درآمد روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا آ رہا ہے کہ روسی تیل کی خریداری سے روس-یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کی فنڈنگ ہو رہی ہے۔ بھارت کے اس وعدے کے بعد دونوں ممالک کے بیچ جاری کشیدگی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اب روس کے بجائے امریکہ سے توانائی درآمد کرنے کا فیصلہ

ایگزیکٹو آرڈر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت مستقبل میں امریکی توانائی کی مصنوعات کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔ اس اقدام کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ 25 فیصد اضافی امریکی ڈیوٹی سرکاری طور پر سنیچر کی صبح 12:01 بجے (مشرقی وقت کے مطابق) سے ہٹ جائے گی۔

ٹیرف میں کمی سے برآمدات کو فائدہ

بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے تحت امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر باہمی محصولات کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس کمی کو ابھی تک باضابطہ طور پر نافذ کرنا باقی ہے۔

بھارت امریکہ سے بڑے پیمانے پر خریداری کرے گا

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک دیگر مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تجارتی معاہدے کے تحت بھارت اگلے پانچ سالوں میں امریکہ سے تقریباً 500 بلین ڈالر کی مصنوعات خریدے گا۔ اس میں توانائی کے وسائل، ہوائی جہاز اور ان کے پرزے، قیمتی دھاتیں، تکنیکی مصنوعات اور کوکنگ کول شامل ہیں۔ مزید برآں، بعض طیاروں اور پرزوں پر عائد ٹیرف کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

تجارتی تعلقات میں ایک نئی شروعات

اس تجارتی معاہدے کو بھارت امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف تجارت بلکہ توانائی اور دفاعی تعاون کو بھی مضبوط کرے گا جس سے دونوں ممالک کو طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے۔

مزید پڑھیں:

بھارت-امریکہ کے بیچ عبوری تجارتی معاہدہ، فریم ورک جاری، نئی دہلی پر ٹیرف 18 فیصد تک کم

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے 30 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ کھول دے گا: پیوش گوئل