اڈانی گروپ نے ایس ای سی کے الزامات کو امریکی عدالت میں چیلنج کیا، مقدمہ خارج کرنے کی اپیل، درخواست سماعت کے لیے قبول
امریکی عدالت نے کہا کہ، فریقین پری موشن کانفرنس کے شیڈول کے لیے عدالت کے نائب سے رابطہ کریں۔

Published : April 8, 2026 at 11:50 AM IST
نیویارک: اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی نے نیویارک کی ایک عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے ذریعہ ان کے خلاف لگائے گئے بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے الزامات کو مسترد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اڈانی کے قانونی نمائندوں نے عدالت کو مطلع کیا ہے کہ وہ ان الزامات کی مکمل برخاستگی کے لیے 30 اپریل تک باضابطہ پری موشن کانفرنس کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نیو یارک کے مشرقی ضلع کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے وکیلوں کی طرف سے مقدمے کو خارج کرنے کے لیے پری موشن کانفرنس کے لیے دائر کی گئی درخواست کو قبول کر لیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسے مدعا علیہان کی درخواست موصول ہوئی ہے جس میں شکایت کو خارج کرنے کے لیے ان کی متوقع اپیل پر پری موشن کانفرنس کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس نے اس درخواست کو منظور کر لیا ہے اور فریقین کو ہدایت کی کہ وہ پری موشن کانفرنس کے شیڈول کے لیے عدالت کے نائب سے رابطہ کریں۔
نیو یارک کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج کو سات اپریل کو جمع کرائے گئی ایک درخواست میں، مدعا علیہان (اڈانی فریق) نے واضح کیا کہ ایس ای سی کا مقدمہ نہ صرف حقائق کے لحاظ سے کمزور ہے بلکہ قانونی طور پر بھی پائیدار نہیں ہے۔
اپیل کی کلیدی بنیادیں
اڈانی گروپ کے وکلاء نے عدالت کے سامنے چار بنیادی دلائل پیش کیے ہیں:
1- دائرہ اختیار کی کمی
وکلاء کا موقف ہے کہ ملزمان ہندوستانی شہری ہیں اور مبینہ واقعات ہندوستان میں پیش آئے۔ چونکہ زیر بحث لین دین امریکی اسٹاک ایکسچینج میں درج نہیں تھے، اس لیے امریکی عدالت کے پاس اس معاملے کا فیصلہ کرنے کا قانونی دائرہ اختیار نہیں ہے۔
2- دعووں میں وضاحت کا فقدان
خط میں زور دیا گیا ہے کہ ایس ای سی کی طرف سے لگائے گئے الزامات حد سے زیادہ مبہم ہیں۔ وکلاء کے مطابق، مدعا علیہان (اڈانی گروپ) کی جانب سے دیے گئے کسی بھی بیان کو اتنا ٹھوس نہیں مانا جا سکتا کہ کوئی سرمایہ کار اسے ضمانت مان کر سرمایہ کاری کرے۔
3- لین دین میں براہ راست کوئی کردار نہیں
وکلاء نے استدلال کیا کہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے 2021 میں 750 ملین امریکی ڈالر کے بانڈز جاری کیے تھے، لیکن یہ فروخت امریکی ضوابط (قاعدہ 144A) کے تحت نجی طور پر غیر امریکی اداروں کو کی گئی تھی ۔ اس عمل میں نہ تو گوتم اڈانی اور نہ ہی ساگر اڈانی کا براہ راست کوئی دخل تھا۔
4- ذاتی شمولیت سے انکار
عدالت کو بتایا گیا کہ 2020 اور 2024 کے درمیان گوتم اڈانی نے 'اڈانی گرین' کی مینجمنٹ کمیٹی کی ایک بھی میٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی انہوں نے بانڈز جاری کرنے سے متعلق کسی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
امریکی ریگولیٹر، ایس ای سی، نے الزام لگایا کہ گوتم اڈانی، ساگر اڈانی، اور دیگر نے 2020 اور 2024 کے درمیان ہندوستان میں شمسی توانائی کے معاہدوں کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً 250 ملین ڈالر رشوت دینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایس ای سی کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے کے دوران امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈز اکٹھے کرتے وقت ان حقائق کو چھپایا گیا تھا- جو کہ سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اڈانی کے وکلاء کا استدلال ہے کہ یہ کیس امریکی سیکورٹیز قوانین کے دائرے سے باہر ہے، کیونکہ اس میں ملوث ادارے ہندوستانی ہیں اور واقعات کا پورا سلسلہ ہندوستان کی سرحدوں کے اندر ہوا ہے۔ اب عدالت طئے کرے گی کہ آیا کیس کو آگے بڑھایا جائے یا اڈانی کی طرف سے پیش کردہ دلائل کو قبول کرتے ہوئے اسے خارج کر دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:

