ETV Bharat / business

آبنائے ہرمز کی بندش: بھارت کی روسی خام تیل میں 'دوبارہ دلچسپی'، ماسکو بیچنے کے لیے تیار

نائب روسی وزیراعظم نے کہا کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بھارت نے روسی تیل میں'دوبارہ دلچسپی' ظاہر کی ہے۔

Representational Image
بھارت اور روس کے جھنڈے (IANS)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : March 4, 2026 at 8:14 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

ماسکو: روس نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے درمیان بھارت نے روسی خام تیل کی بڑی مقدار درآمد کرنے میں "دوبارہ دلچسپی" کا اشارہ دیا ہے۔

تیل کی سپلائی کے لیے آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے روٹ ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے متعدد ممالک کی اینرجی سپلائی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ دریں اثنا روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے ماسکو میں ایک تقریب کے دوران پر سرکاری ٹی وی روسیا 1 کو بتایا کہ "ہاں، ہمیں بھارت سے نئی دلچسپی کے اشارے مل رہے ہیں۔"

دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا ایک اہم حصہ تنگ آبی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' سے گزرتا ہے جو خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملاتا ہے۔

ہرمز کے راستے ٹریفک پر کسی بھی طویل پابندی سے بھارت، چین اور جاپان سمیت بڑے درآمد کنندگان کو توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مشکلات اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ ہے۔

روس کے شعبہ توانائی کی نگرانی کرنے والے نوواک نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ یورپی یونین بھی توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر روسی ہائیڈرو کاربن کی درآمدات کو کم کرنے کے اپنے فیصلے میں نرمی کر سکتی ہے۔

دریں اثنا، توانائی کے بڑے ادارے گیزپرون (Gazprom) کی ملکیت والے روس کے این ٹی وی چینل نے کہا کہ خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافے اور ایران کے حملے ماسکو کی "گہری چھوٹ" کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

روس بھارت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار

دریں اثنا روس مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے تیل اور گیس کی سپلائی میں طویل رکاوٹوں کی صورت میں بھارت کی توانائی کی ضروریات کو پوری طرح پورا کرنے کے لیے تیار ہے، یہ بات روسی فیڈریشن کے سفارت خانے کے ایک اہلکار نے پیر کو کہی۔

واضح رہے کہ دو مارچ کو قطر میں راس لافان انڈسٹریل سٹی اور میسائید انڈسٹریل سٹی میں ڈرون کے بعد قطر انرجی نے مائع قدرتی گیس (LNG) کی پیداوار اور متعلقہ مصنوعات کو معطل کر دیا۔ اسی طرح ڈرون حملوں سے متاثر ہونے کی وجہ سے ارامکو کے پروڈکشن میں بھی خلل پڑا ہے۔ اس صورت حال کو ماسکو کو راست فائدہ ملنے کی امید ہے۔ ایک روسی اہلکار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ "ہم توانائی کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹ کی صورت میں بھارت کی توانائی کی ضروریات کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے کے بعد توانائی کی فراہمی میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں جو کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ بھارت اپنے خام تیل اور ایل این جی کی درآمدات کے ایک بڑے حصے کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ واضح رہے کہ نئی دہلی نے حال ہی میں امریکی دباؤ کے باعث روس سے تیل کی خریداری بڑی حد تک کم کر دی تھی۔

مزید پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحران: بھارت کے پاس 40 تا 45 دن کا تیل ذخیرہ موجود، مگر درآمدی اخراجات میں اضافے کا خدشہ

ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا: بحری جہازوں پر حملوں کا انتباہ، بھارت کا پچاس فیصد تیل خطرے میں

یہ ہے آبنائے ہرمز! جس کے بند ہونے کی خبر سے ہے دنیا بھر کے ممالک پریشان!

آبنائے ہرمز کیا ہے، اس کی ناکہ بندی سے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ بھارت کو ہوگا بھاری نقصان