ساڑھے چھ کروڑ میں رفع دفع ہو گیا سبھاش چندرا کا بائیس ہزار کروڑ کا قرض، بینک جھیلیں گے 99.9 فیصد کا بھاری نقصان
عدالت کی منظوری کے بعد زی گروپ کے مالک کا پرانا تنازع حل، بھاری مالی نقصان کے درمیان بینکوں کے پاس قانونی اپیل کا راستہ۔


Published : August 27, 2026 at 1:10 PM IST
نئی دہلی: زی گروپ (Zee Group) کے مالک ڈاکٹر سبھاش چندرا کے قرض کے معاملے میں ایک ایسا فیصلہ آیا ہے جس نے سب کو چونکا دیا ہے۔ این سی ایل ٹی (NCLT) نے سبھاش چندرا کے اس پلان کو ہری جھنڈی دے دی ہے، جس کے تحت وہ بینکوں کا کل 22,006 کروڑ روپے کا قرض صرف 6.5 کروڑ روپے دے کر نپٹا دیں گے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ بینکوں کا پیسہ پوری طرح ڈوب گیا ہے۔ انہیں تقریباً 99.9 فیصد کا بھاری نقصان جھیلنا پڑے گا اور ان کی جیب میں صرف 0.03 فیصد رقم ہی واپس آئے گی۔
عدالت میں ایسے سلجھا معاملہ
اس فیصلے کو لے کر کورٹ کے دو ججوں کے درمیان آپسی اختلاف رائے تھا۔ ایک جج اس کے حق میں تھے اور دوسرے خلاف۔ اس ٹائی (برابری) کو توڑنے کے لیے تیسرے جج نیلیش شرما کو لایا گیا۔ انہوں نے سبھاش چندرا کے پلان کے حق میں اپنا ووٹ دیا، جس کے بعد اسے باضابطہ منظوری مل گئی۔ کورٹ کا کہنا ہے کہ جب قرض دینے والے زیادہ تر بینک خود اس سمجھوتے کے لیے مان گئے ہیں، تو کورٹ اس میں مداخلت نہیں کرے گا۔
بڑے بڑے سرکاری اور پرائیویٹ بینک رہ گئے خالی ہاتھ
اس سمجھوتے کو پاس کرانے کے لیے قانوناً 75 فیصد بینکوں کی رضامندی ضروری تھی۔ سبھاش چندرا کے اس پلان کو 80 فیصد سے زیادہ کریڈیٹرز (قرض دہندگان) کے ووٹ ملے، جس کے بعد یہ پاس ہو گیا۔ اگرچہ ایل آئی سی ہاؤسنگ، ایچ ڈی ایف سی بینک، ایکسس بینک، کینرا بینک اور یونین بینک جیسے بڑے اداروں نے اس پلان کی جم کر مخالفت کی۔ لیکن ان کا کل حصہ 20 فیصد سے کم تھا، اس لیے اب قانون کے مطابق ان بینکوں کو بھی نہ چاہتے ہوئے بھی اس گھاٹے والے سمجھوتے کو قبول کرنا ہی ہوگا۔
45,000 کروڑ سے سیدھے 31 کروڑ پر آئی جائیداد
ناراض بینکوں نے کورٹ میں یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ سال 2017 میں سبھاش چندرا نے اپنی کل جائیداد 45,888 کروڑ روپے بتائی تھی، جو آج گھٹ کر صرف 31.79 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔ بینکوں نے الزام لگایا کہ جائیداد کو کہیں چھپایا یا غائب کیا گیا ہے۔ لیکن کورٹ نے بینکوں کی اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ کورٹ نے کہا کہ جائیداد کم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی دھوکہ دہی ہوئی ہی ہو۔ ویسے بھی سبھاش چندرا کے پاس اب کچھ خاص بچا نہیں ہے، اگر بینک اس پلان کو ٹھکراتے تو انہیں یہ 6.5 کروڑ روپے بھی نہ ملتے۔
خبر سنتے ہی وجے مالیا کا پھوٹا غصہ
اس حیران کرنے والے سمجھوتے پر بھارت سے بھاگے ہوئے کاروباری وجے مالیا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'X' (ٹویٹر) پر طنز کیا ہے۔ مالیا نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا:
"اگر یہ خبر سچ ہے، تو میرے دوست سبھاش کو بہت بہت مبارک ہو۔ بینکوں اور حکومت نے خود مانا ہے کہ انہوں نے مجھ سے 6,203 کروڑ روپے کے قرض کے بدلے 14,100 کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ وہیں دوسری طرف کئی بڑے قرض داروں کا معاملہ محض کچھ روپوں میں رفع دفع ہو جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بھارت میں قرض کے انصاف کا یہی نیا طریقہ ہے۔ اب اس پر میڈیا کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔"
واضح رہے کہ وجے مالیا سال 2016 میں کنگ فشر ایئر لائنز کا لون نہ چکانے کے بعد بھارت چھوڑ کر لندن بھاگ گئے تھے، جہاں سے بھارت حکومت آج بھی انہیں واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

