ETV Bharat / business

چین کو بڑا دھچکا! بھارت اور برازیل کے بیچ 'ریئر ارتھ منرلز' سمیت اہم تجارتی معاہدے پر دستخط

وزیراعظم مودی اور صدر لولا نے 20 بلین ڈالر کی تجارت کا ہدف مقرر کرتے ہوئے 'ریئر ارتھ الیمنٹس' پر ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا
وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا (@NarendraModi/Yt via PTI Photo)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 21, 2026 at 2:38 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: آج 21 فروری 2026 کو نئی دہلی میں ایک انتہائی اہم میٹنگ ہوئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے مستقبل کی ٹیکنالوجی اور تجارت کو ایک نئی سمت دینے کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔ اس اجلاس کی سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ ریئر ارتھ سے متعلق اہم معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔

یہ معاہدہ کیوں خاص ہے؟

آج کی دنیا میں اسمارٹ فونز، الیکٹرک کار کی بیٹریاں، سولر پینلز اور یہاں تک کہ لڑاکا طیاروں کی تیاری کے لیے کچھ خاص معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ریئر ارتھ الیمنٹس کہا جاتا ہے۔ فی الحال ان پر چین کا قبضہ ہے۔ برازیل کے پاس ان معدنیات کا دنیا کے دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ چین پر بھروسہ کرنے کے بجائے بھارت اب یہ معدنیات براہ راست برازیل سے خریدے گا۔ اس سے بھارت کے دفاعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو نمایاں طور پر مضبوطی ملے گی۔

تجارت اور ترقی کے لیے نئے اہداف

بھارت اور برازیل نے سال 2030 تک دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 20 ارب ڈالر (تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے) تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ پچھلے سال، 2025 میں یہ تجارت تقریباً 15 ارب ڈالر کے قریب تھی۔ بھارت کو اپنی سڑکیں اور پل بنانے کے لیے برازیل سے کچا لوہا اور تیل کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ برازیل کو بھارت کی ادویات اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

دفاعی اور ہوائی جہاز کی تیاری

حال ہی میں برازیل کی مشہور کمپنی ایمبریئر نے بھارت کے اڈانی گروپ کے ساتھ مل کر ہندوستان میں ہوائی جہاز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج کی ملاقات میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کس طرح دونوں ممالک مل کر فوج کے لیے نئے ہتھیار اور طیارے تیار کر سکتے ہیں۔

گلوبل ساؤتھ کی طاقت

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے 2025 میں عائد امریکی ٹیکس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پی ایم مودی اور صدر لولا نے پیغام دیا کہ بھارت اور برازیل جیسے ترقی پذیر ممالک اب کسی بڑی طاقت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ مزید برآں، انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے محفوظ استعمال پر بھی اتفاق کیا تاکہ یہ ٹیکنالوجی صرف امیر ممالک تک محدود نہ رہے۔

مزید پڑھیں:

بھارت اور فرانس کے بیچ مختلف شعبوں میں 21 معاہدوں پر دستخط

امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ بھارت کے تجارتی معاہدے کا کیا اثر ہو گا؟

بھارت-امریکہ کے بیچ عبوری تجارتی معاہدہ، فریم ورک جاری، نئی دہلی پر ٹیرف 18 فیصد تک کم

'بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ ایک مشکل امتحان'، ٹرمپ کے بیان کے بعد کانگریس کا پی ایم مودی پر حملہ