عالمی رکاوٹوں کے باوجود بھارت کی 7.8 فیصد معاشی ترقی قابلِ ذکر: نرملا سیتا رمن
امریکی سرمایہ کار کانفرنس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت میں سرمایہ کاری کا ماحول نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے۔

Published : September 3, 2026 at 11:45 AM IST
نئی دہلی: مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری رکاوٹوں اور بحران کے باوجود بھارت نے مالیاتی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی نمایاں معاشی نمو حاصل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود بھارت دنیا بھر میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔
بدھ کے روز، سیتا رمن نے نیویارک میں بھارتی قونصلیٹ جنرل اور بینک آف امریکہ کے تعاون سے منعقدہ سرمایہ کاروں کی ایک اعلیٰ سطح کی بزنس راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کی۔
وزارتِ خزانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری ایک پوسٹ میں بتایا کہ سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے سیتا رمن نے کہا کہ "عالمی رکاوٹوں اور تمام تر مشکلات کے باوجود، بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے، جس نے مالیاتی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی شاندار معاشی ترقی درج کی ہے۔" سیتارمن ایشول، نارتھ کیرولائنا میں جی 20 کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد نیویارک پہنچی تھیں۔
Union Minister for Finance and Corporate Affairs Smt. @nsitharaman today participated in a high-level Business Roundtable with investors, organised by the Consulate General of India in New York @IndiainNewYork, in association with @BankofAmerica, New York.
— Ministry of Finance (@FinMinIndia) September 3, 2026
Addressing the… pic.twitter.com/iEwIeSuIyO
سیتارمن نے مزید کہا کہ اپنی مضبوط اصلاحاتی پالیسی کی بدولت، بھارت نے 'انسولوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ' (دیوالیہ پن سے متعلق قانون) سمیت متعدد اصلاحات کے ذریعے ریگولیٹری نظام کو زیادہ یقینی اور واضح بنایا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی پوسٹ کے مطابق، "ان اصلاحات نے قوانین پر عمل درآمد کو آسان بنانے اور کاغذی کارروائی کو کم کرنے میں مدد دی ہے، جو کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل حکومتِ ہند کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے اس کی اولین ترجیح رہی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے جن اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی ہے ان میں پائیدار بنیادی ڈھانچوں کی تخلیق اور انفراسٹرکچر بالخصوص ہوا بازی کی ترقی کے ذریعے صنعت کو مسلسل مدد فراہم کرنا؛ سرمایہ کاری کے لیے سازگار اور دوستانہ ماحول تیار کرنا؛ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا سینٹرز کی ترقی کو فروغ دینا؛ گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (عالمی معلوماتی و تکنیکی مراکز) کی معاونت کرنا؛ ایم ایس ایم ایز (مائیکرو، سمال اور میڈیم صنعتوں) کے لیے قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانا؛ اور بینکوں کے نان پرفارمنگ اثاثوں (ڈوبے ہوئے قرضوں) کو کم کرنا شامل ہے۔
متعلقہ خبر: 'مینو فیکچر ان انڈیا فاردا ورلڈ'، وزیر خزانہ سیتا رمن کی شکاگو میں عالمی سرمایہ کاروں کو کھلی دعوت
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ان اقدامات نے بینکوں اور صنعتوں کے پھلنے پھولنے، ترقی کرنے اور مزید مضبوط بن کر ابھرنے کے لیے ایک زیادہ مددگار کاروباری ماحول پیدا کرنے میں مدد کی ہے۔ سیتارمن نے مزید کہا کہ کووڈ-19 کے آغاز سے ہی عالمی معیشت کو درپیش مسلسل چیلنجز کے باوجود، بھارت گزشتہ چند برسوں سے مالیاتی نظم و ضبط کے راستے پر مستقل مزاجی سے گامزن رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت میں سرمایہ کاری کا ماحول نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے، جہاں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی اپنے اپنے علاقوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اسے آسان بنانے کے لیے زیادہ جوش و خروش اور مسابقتی جذبے کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ نے فرانسیسی کمپنیوں کو 'ترقی یافتہ ہندوستان 2047' میں شرکت کی دعوت دی
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ یہ کوششیں 'وِکست بھارت 2047' کے وژن کو حاصل کرنے کی وسیع تر قومی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ اس سے قبل، امریکہ میں بھارت کے سفیر ونے کواترا نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار بھارتی معیشت کی مضبوطی اور لچک کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
وزارتِ خزانہ کی 'ایکس' پر جاری پوسٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط روابط قائم کر کے بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی ترقی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
چندرا بابو نائیڈو کو ملا 'بزنس ریفارمر آف دی ایئر' کا ایوارڈ
آر بی آئی نے ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار رکھا، جی ڈی پی شرح نمو کا تخمینہ 7.4 فیصد

