امریکہ کا بھارت کو بڑا جھٹکا! سولر امپورٹ پر 126 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، سرمایہ کار حیران!
امریکہ کا الزام ہےکہ بھارت اپنی کمپنیوں کو غیر منصفانہ سبسڈی دے رہا ہے جس سے امریکی صنعت کاروں کو نقصان ہو رہا ہے۔

Published : February 25, 2026 at 10:13 AM IST
واشنگٹن: بھارت اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی شمسی توانائی صنعت کو گہرا زخم دیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے بھارت سے درآمد کیے گئے سولر سیلز اور پینلز پر 125.87 فیصد (تقریباً 126 فیصد) کی بھاری ابتدائی کاؤنٹر ویلنگ ڈیوٹی (CVD) عائد کر دیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ حکومت ہند اپنی کمپنیوں کو غیر منصفانہ سبسڈی دے رہی ہے جس سے امریکی صنعت کاروں کو نقصان ہو رہا ہے۔
بھارتی کمپنیوں کے لیے مارکیٹ بند
سٹی کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس حد سے زیادہ ڈیوٹی کی وجہ سے بھارتی شمسی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ کے دروازے عملی طور پر بند ہو سکتے ہیں۔ سال 2024 میں بھارت نے امریکہ کو تقریباً 792.6 ملین ڈالر کی شمسی مصنوعات برآمد کیں، جو کہ سال 2022 کے مقابلے میں نو گنا زیادہ ہے۔ اب اس طرح کے زیادہ ڈیوٹی کے ساتھ امریکی مارکیٹ میں بھارتی پینلز کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو جائیں گی، جس سے وہ ممکنہ طور پر مقابلے سے باہر ہو سکتے ہیں۔
تجارتی معاہدے کے بارے میں سوالات
یہ فیصلہ اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت کے درمیان رواں ماہ ایک تجارتی معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد باہمی تجارتی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ تاہم، یہ نیا ٹیکس ٹرمپ کے "عالمی ٹیرف" سے مختلف ہے، جنہیں حال ہی میں امریکی سپریم کورٹ نے ختم کر دیا تھا۔ یہ اقدام براہ راست الائنس فار امریکن سولر مینوفیکچرنگ اینڈ ٹریڈ کی شکایت کے جواب میں اٹھایا گیا جس میں فرسٹ سولر جیسی بڑی امریکی کمپنیاں شامل ہیں۔
بھارتی صنعت پر اثرات
یہ بھارت کی سرکردہ شمسی کمپنیوں جیسے اڈانی گرین، ٹاٹا پاورز اور واری انرجیز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔ چونکہ ان کمپنیوں کے مستقبل میں توسیع کے منصوبے زیادہ تر امریکی برآمدات پر منحصر ہیں، اس لیے اسٹاک مارکیٹ میں بھی اس شعبے کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

