ایس آئی آر معاملے پر الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت جاؤں گی اور خود مقدمہ لڑوں گی: ممتا بنرجی
ممتا نے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ٹیکنالوجی یا اے آئی کے غلط استعمال کے ذریعے لوگوں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔

Published : January 6, 2026 at 7:21 AM IST
ساگر دیپ (مغربی بنگال): مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اسپیشل انٹینسیو ریویو (ایس آئی آر) کے دوران غیر انسانی عمل کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی۔ انہوں نے یہ اعلان پیر کو کیا۔ وہ جنوبی 24 پرگنہ کے ساگر آئی لینڈ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہی تھیں۔
وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹیکنالوجی یا اے آئی کے غلط استعمال کے ذریعے لوگوں کے نام مشینی طریقے سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "5.4 ملین ناموں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں فارم 7 یا 8 بھرنے کا حق تھا، لیکن انہیں اے آئی نے ہٹا دیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ بغیر کسی غور و خوض کے محض مشینی غلطیوں یا اسپیلنگ کی غلطیوں کے بہانے نام ہٹانا جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کمیشن اب اپنے دماغ سے نہیں چل رہا ہے۔ بلکہ یہ واٹس ایپ پر چل رہا ہے، جس سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور ساکھ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
ممتا بنرجی نے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران بہت کچھ ایسا ہوا، جس سے عوام میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دوران خوف، استحصال اور انتظامی من مانی کا کھیل کھیلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو اسپتال تک لے جانا پڑا، جب کہ کئی دیگر جو اسپتالوں میں علاج کرا رہے تھے انہیں لائن میں لگنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم کل عدالت میں غیر انسانی سلوک اور ایس آئی آر کی وجہ سے ہوئی اموات کے معاملے پر درخواست دائر کریں گے۔" ممتا بنرجی مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ذاتی طور پر مقدمہ لڑیں گی اور بطور وکیل عدالت میں پیش ہوں گی۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ اگر انہیں اجازت دی گئی تو وہ ایک عام شہری کی حیثیت سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کریں گی اور الیکشن کمیشن کے غیر انسانی عمل کے خلاف آواز اٹھائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود ایک تربیت یافتہ وکیل ہیں اور اس لیے مقدمہ لڑنا جانتی ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ مقدمہ کون دائر کرے گا، آیا درخواست ٹی ایم سی دائر کرے گی یا مغربی بنگال حکومت کی طرف سے مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
عوام سے خطاب کرتے ہوئے، ممتا بنرجی نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو من مانی طور پر ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا ہے اور نام ہٹانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کارروائیوں کے لیے ایک پروسس ہوتا ہے، لیکن یہاں کچھ بھی فالو نہیں کیا جا رہا ہے، جس سے لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا، وہ انتظامی طریقہ کار سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد اور بزرگ شہریوں کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ "اگر بی جے پی لیڈروں کے بوڑھے ماں باپ کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے لائن میں کھڑا کر دیا جائے تو انہیں کیسا محسوس ہوگا؟ جب سے ایس آئی آر متعارف کرایا گیا ہے، بہت سے لوگ خوف سے مر چکے ہیں اور بہت سے لوگوں کو اسپتال میں بھرتی ہیں۔"
ریلی کے دوران ممتا بنرجی نے کہا کہ زبان کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، بنگالی بولنے والے مزدور سب سے زیادہ اس کے شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی میری جان بھی لے لے، وہ بنگالی بولنا بند نہیں کرے گی۔ ممتا نے کہا کہ یہ ان کی مادری زبان ہے اور وہ اس سے بہت پسند کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ملک میں بنگالی بولنا جرم بن گیا ہے؟
چیف منسٹر نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات سے پہلے لوگوں کو لالچ دیتی ہے اور جیتنے کے بعد جابرانہ کارروائیاں کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "وہ انتخابات سے پہلے 10،000 روپے دیتے ہیں اور پھر انتخابات ختم ہونے کے بعد بلڈوزر چلا دیتے ہیں۔"
مزید پڑھیں:
الیکشن کمیشن نے ہمارے تحفظات کو دور نہیں کیا، سی ای سی کا رویہ جارحانہ تھا، ابھیشیک بنرجی
ایس آئی آر کے دوران شہری علاقوں میں مردم شماری کے فارموں کی وصولی اب تک بہت کم رہی
ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ جلد شروع ہوگا، ووٹر نظرثانی کا کام 22 ریاستوں میں مکمل کیا جائے گا
تملناڈو: ایس آئی آر فارم ٹھیک سے نہ بھرنے والے 10 لاکھ ووٹرز کو الیکشن کمیشن نوٹس بھیجے گا

