ETV Bharat / bharat

جے این یو میں طلباء نے پی ایم مودی اور امت شاہ کے خلاف لگائے متنازعہ نعرے

JNU کے سابق طالب علنم عمرخالد کی ضمانت مسترد کیے جانے سے یونیورسٹی طلبہ میں ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔

جے این یو میں طلباء نے پی ایم مودی اور امت شاہ کے خلاف لگائے متنازعہ نعرے
جے این یو میں طلباء نے پی ایم مودی اور امت شاہ کے خلاف لگائے متنازعہ نعرے (Etv Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 6, 2026 at 11:41 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: جے این یو میں طلباء کے ایک گروپ نے یونیورسٹی کیمپس کے اندر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف متنازعہ نعرے لگائے۔ طلباء کی ناراضگی اس وقت سامنے آئی ہے جب پیر (5 جنوری) کو سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی 2020 دہلی فسادات کی سازش کیس میں ضمانت مسترد کردی۔ پیر کی رات ہونے والے احتجاج کی ایک مبینہ ویڈیو کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی مذمت کرتے ہوئے نعرے لگائے گئے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی صدر ادیتی مشرا نے کہا کہ ہر سال طلباء کیمپس میں پانچ جنوری 2020 کو ہونے والے تشدد کی مذمت کے لیے احتجاج کرتے ہیں۔

مشرا نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ، احتجاج میں لگائے گئے تمام نعرے نظریاتی تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نعرے کسی پر ذاتی طور پر حملہ نہیں کرتے۔ ان کا رخ کسی کی طرف نہیں تھا۔

اس دوران ایک سینئر پولیس افسر نے واضح کیا ہے کہ نعروں کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ پانچ جنوری 2020 کو کیمپس میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اس دن نقاب پوش افراد کے ایک ہجوم نے کیمپس پر دھاوا بول دیا تھا جس میں تین ہاسٹلوں میں طلباء کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ شرپسندوں نے لاٹھیوں، پتھروں اور لوہے کی سلاخوں سے حملے کیے تھے۔ اس حملے میں ہاسٹل میں طلباء کو مارا پیٹا گیا تھا اور ہاسٹل کی کھڑکیاں، فرنیچر اور ذاتی سامان توڑ دیا گیا تھا۔

اس حملے میں کیمپس میں تقریباً دو گھنٹے تک افراتفری کے دوران جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت کم از کم 28 افراد زخمی ہوگئے۔

کیمپس میں شرپسندوں کے حملے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کئے جانے پر دہلی پولیس پر تنقید کی گئی تھی۔ خاص طور سے تب جب پولیس نے کیمپس میں توڑ پھوڑ سے متعلق دو ایف آئی آر میں گھوش سمیت طلبہ یونین کے رہنماؤں کا نام شامل کیا تھا۔

بی جے پی نے کیا کہا

جے این یو کیمپس میں پی ایم مودی اور مرکزی داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ نعرے بازی پر، مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا کہ، "جے این یو 'ٹکڑے-ٹکڑے گینگ' کا مرکز بن گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ، وویکانند نے کہا تھا کہ زعفران ہی غالب رہے گا۔۔۔میں 'ٹکڑے-ٹکڑے گینگ' کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ عمر خالد اور شرجیل امام جیسے لوگوں کی حمایت کرتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کے حامی جذبات کو ہوا دی وہ غدار ہیں۔

عدالتی فیصلے کی مخالفت کا حق: کانگریس

کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے اس معاملے میں کہا کہ، کسی کو بھی عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے، لیکن میں 'خبر' جیسے الفاظ کا استعمال قابل قبول نہیں سمجھتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ، یہ طالب علم ہیں، انھیں احتجاج کا حق ہے، اگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ جن دو لوگوں کو بھی ضمانت نہیں دی گئی ہے، انہیں ضمانت ملنی چاہیے تھی۔ کانگریس لیڈر نے کہا، دوسرے لوگوں کی بڑی تعداد بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہے۔ لیکن اس قسم کی زبان استعمال کرنا قابل اعتراض ہے۔

واضح رہے، دہلی ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بھی کارکن عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کردی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان دونوں کے معاملے کو دیگر ملزمان سے الگ قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کی سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ نے جانچ ایجنسیوں کو دہلی فسادات کیس میں جلدی ٹرائل ختم کرنے کی ہدایت دی ساتھ ہی عمر خالد اور شرجیل امام کو مزید ایک سال بعد ضمانت کے لیے درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے۔

(پی ٹی آئی کے مشمولات کے ساتھ)

یہ بھی پڑھین: