عمر خالد میرے گرو نہیں ہیں، شرجیل امام نے دہلی کی عدالت میں ایسا کیوں کہا؟
دہلی فسادات سازش کیس میں شرجیل امام نے عدالت کو بتایا کہ عمر خالد ان کے گرو یا سرپرست نہیں ہیں۔

Published : January 8, 2026 at 8:29 PM IST
نئی دہلی: حال ہی میں سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کردی۔ جمعرات کو ملزم شرجیل امام نے فسادات کے سلسلے میں ککڑڈوما کورٹ میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ ملزم شرجیل امام نے عدالت میں بیان دیا کہ عمر خالد ان کے سرپرست یا رہنما نہیں ہیں۔ دہلی پولیس کا یہ دعویٰ غلط ہے۔
شرجیل کے وکیل طالب مصطفی نے یہ بیان ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی کی عدالت میں فرد جرم عائد کرنے پر دلائل دیتے ہوئے دیا۔ شرجیل امام نے کہا کہ جے این یو میں پانچ سال کی تعلیم کے دوران عمر خالد سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ وکیل طالب مصطفیٰ نے کہا کہ دہلی پولیس کا یہ دعویٰ کہ عمر خالد نے انہیں ہدایت دی تھی بالکل غلط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو صرف ایک بار ایک ملاقات میں دیکھا گیا تھا، لیکن اس ملاقات میں بھی تشدد پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
وکیل طالب مصطفیٰ نے کہا کہ 2020 میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ صرف اس لیے کہ بہت سے ملزمان شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ایک سازش تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرجیل امام نے کبھی تشدد پر اکسایا نہیں۔
وکیل طالب مصطفیٰ نے یہ بھی کہا کہ شرجیل امام کی چیٹس، ان کے پمفلٹس اور ان کی تقاریر کو دیکھیں۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ شرجیل تشدد یا فسادات بھڑکانا چاہتا تھا لیکن کسی میٹنگ اور تشدد یا فسادات میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک سال بعد ضمانت کی درخواست دوبارہ دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: "بالآخر سچائی ہی غالب آئے گی، انشاء اللہ، ہم کامیاب ہوں گے" ضمانت مسترد ہونے پر شرجیل امام کا بیان |

