ٹرمپ نے دہرایا بھارت - پاکستان جنگ رکوانے کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت پاکستان جوہری جوہری جنگ رکوانے، اور آٹھ طیارے تباہ ہونے کی بات دہرائی۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : January 10, 2026 at 12:04 PM IST
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوا دی تھی۔ ان کے مطابق دونوں جوہری طاقتیں ’’بڑی لڑائی کے لیے تیار‘‘ تھیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ گزشتہ سال کے تنازع میں آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔ ٹرمپ اب تک تقریباً 70 مرتبہ یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع ختم کرایا۔
فاکس نیوز کو جمعرات کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: ’’میں نے آٹھ جنگیں رکوا دیں، آٹھ اور ایک چوتھائی، کیونکہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پھر سے لڑ پڑے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’نظریاتی طور پر‘‘ ہر جنگ رکوانے پر ایک ایک نوبیل انعام ملنا چاہیے۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’ان میں سے کچھ جنگیں 30 سال سے جاری تھیں۔ بھارت اور پاکستان بڑی لڑائی کے لیے تیار تھے۔ یہ دونوں جوہری ہتھار رکھتے ہیں، آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔ لڑائی شدید تھی، اور میں نے اسے رکوا دیا۔ یہ ایک بڑی جنگ تھی۔‘‘
یاد رہے کہ اپریل 2025میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے 7 مئی کو ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گرد ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 22 اپریل کو پہلگام حملے میں 25سیاح اور ایک مقامی گھوڑے بان ہلاک ہوئے تھے۔ آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان نے بھی حملہ کیا اور10 مئی کو چار روزہ شدید جھڑپوں خاص کر سرحد پار ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد دونوں ممالک نے تنازع ختم کرنے پر اتفاق کیا، جس کی اطلاع سب سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطہ گاہ پر دی تھی اور تب سے ٹرمپ ہر بار بھارت پاکستان کے مابین ممکنہ جوہری تنازع ختم کرانے کا سہرا خود کے سر باندھ رہے ہیں۔ وہیں بھارت مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ تنازع کے حل میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت ہوئی۔
انٹریو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کانگو اور روانڈا کے درمیان 30 سال سے جاری جنگ بھی رکوائی۔ ’’میں نے اسے بھی رکوا دیا۔ میں نے بہت سی جنگیں رکوا دیں۔ یہ ایک خوبصورت بات ہے۔ مجھے اس سے بہت اچھا لگتا ہے، نوبیل انعام (کی لالچ) کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں، اور اسی سے مجھے خوشی ملتی ہے۔‘‘
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا: ’’میرے فہم کے مطابق وہ اگلے ہفتے آ رہی ہیں اور میں ان سے ملنے کے لیے منتظر ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ وہ ایسا کرنا چاہتی ہیں۔ یہ میرے لیے بڑا اعزاز ہوگا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں نوبیل امن انعام نہ ملنا ناروے کے لیے ’’بڑی شرمندگی‘‘ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس کا نوبیل انعام ماریا کورینا کو دیا گیا تھا جس پر انہوں کہا تھا کہ وہ یہ انعام ٹرمپ کو اپنے ملک کو ’’آزاد کرانے‘‘ پر دینا چاہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ٹرمپ نے تیل اور گیس کے عالمی ایگزیکٹوز سے کہا، 'آپ سیدھے ہم سے ڈیل کر رہے ہیں، وینزویلا سے نہیں'

