عمر خالد، شرجیل امام کے لیے آج اہم دن، سپریم کورٹ درخواست ضمانت پر فیصلہ سنائے گی
10 دسمبر 2025 کو سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل اور ملزمین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

Published : January 5, 2026 at 9:14 AM IST
نئی دہلی: سپریم کورٹ آج (5 جنوری) 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس میں ملزمین عمر خالد ، شرجیل امام ، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ ان درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔
گزشتہ سال 10 دسمبر کو سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو اور ملزمان عمر خالد ، شرجیل امام ، گلفشاں فاطمہ کے وکلاء کپل سبل، ابھیشیک سنگھوی، سدھارتھ دوے اور سلمان خورشید کی طرف سے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
عمر خالد، امام اور باقی ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مبینہ طور پر فروری 2020 کے فسادات کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،۔ دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کے دوران دہلی میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔
یہ ملزمان، جنہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا ہے، 2020 سے جیل میں ہیں اور دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست کی تھی۔
دو دسمبر کو ہوئی سماعت میں عمر کے وکیل کپل سبل نے جسٹس اروند کمار اور این وی انجاریا کی بنچ کو بتایا تھا کہ یہ حکومت کی جانب سے ایک تعزیری عمل ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے مؤکل کو جیل میں رکھا جائے اور یونیورسٹی کے دیگر طلباء کے لیے ایک نظیر بنا دی جائے جس سے وہ ایسی حرکتیں نہیں کریں گے۔
دوسری جانب امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر ونے کواترا کو خط لکھا ہے کہ خالد کو ضمانت دی جائے اور "بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ، بروقت ٹرائل" کو یقینی بنایا جائے۔ خط میں 2020 دہلی فسادات کے سلسلے میں الزامات عائد کیے جانے والے خالد سمیت دیگر افراد کی طویل پری ٹرائل حراست کے بارے میں تشویش" کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

