سپریم کورٹ پسماندہ مسلمانوں کے لیے او بی سی ریزرویشن کی درخواست پر سماعت کرے گا
سپریم کورٹ نے زبانی طور پر کہا کہ او بی سی کے لیے صرف سماجی صورتحال ہی نہیں بلکہ مالی حالت بھی ایک فیکٹر ہے۔

By Sumit Saxena
Published : February 24, 2026 at 8:41 AM IST
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پسماندہ مسلمانوں کو دیگر پسماندہ طبقے (او بی سی) زمرے کے تحت ریزرویشن دیا جانا چاہے۔ سپریم کورٹ نے زبانی طور پر کہا کہ او بی سی کے لیے نہ صرف سماجی صورت حال بلکہ معاشی حالت بھی ایک فیکٹر ہے۔
محمد وسیم سیفی کی طرف سے دائر درخواست چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باغچی پر مشتمل بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آئی۔ درخواست گزار کی طرف سے سینئر وکیل انجنا پرکاش بینچ کے سامنے پیش ہوئیں۔
سماعت کے دوران انجنا پرکاش نے کہا کہ "مجھے بتایا گیا ہے کہ یہاں ایک فل بنچ کی سماعت زیر التواء ہے، جو او بی سی کے لیے اضافی ریزرویشن پر غور کر رہی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیس آندھرا پردیش کے فیصلے سے نکلا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ یہ اس فل بنچ معاملے میں اچھی طرح سے طے ہو جائے گا۔"
سی جے آئی نے کہا کہ "بالآخر، آپ جو پوچھ رہے ہیں اور جو آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس معاملے پر قانون بنائیں، وہ ایک مسئلہ ہے، شہریوں کے ایک مخصوص گروپ کو ریزرویشن دینا، دوسرے مسلم او بی سی میں او بی سی کا کیا ہوگا؟" اس پر انجنا پرکاش نے جواب دیا کہ "ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں۔" سی جے آئی نے کہا کہ "آپ مسلمانوں کے ایک خاص زمرے یا طبقے کو او بی سی میں شامل کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ او بی سی صرف سماجی حالت کا فیکٹر نہیں ہے، بلکہ اقتصادی حالت بھی ایک عنصر ہے۔"
پرکاش نے کہا کہ مسلمان دراصل سماجی ڈھانچے میں تین زمروں میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اشراف، جو روایتی طور پر اعلیٰ طبقے کے مسلمان سمجھے جاتے ہیں، غیر ملکی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ بنچ نے نوٹ کیا کہ ضروری نہیں کہ پسماندہ مسلمان ہی صرف پچھڑی کلاس ہوں اور یہ کہ مسلمان بھی دوسرے زمروں میں آتے ہیں۔"
انجنا پرکاش نے کہا کہ اس معاملے کا مکمل فیصلہ آئینی بنچ میں کیا جا سکتا ہے اور بنچ اسے اس کیس کے ساتھ جوڑنے پر غور کر سکتی ہے۔ ایڈوکیٹ انجنا نے بنچ سے درخواست کی کہ اس پٹیشن کو ایک اور زیر التوا کیس، اسٹیٹ آف آندھرا پردیش اینڈ آرس، ارچنا ریڈی اینڈ آرس کے ساتھ ٹیگ کیا جائے۔ اس معاملے میں ایک آئینی بنچ غور کر رہی ہے کہ کیا آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات (SEB) کے تحت 4% ریزرویشن دیا جا سکتا ہے۔
یہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے 2005 کے فیصلے کے خلاف اپیل ہے، جس نے ریاستی ریزرویشن فار مسلمز ایکٹ، 2005 کے تحت تعلیمی اداروں میں سیٹوں اور عوامی خدمات میں تقرریوں/ عہدوں کے لیے آندھرا پردیش ریزرویشن کو ختم کر دیا تھا۔
سی جے آئی نے کہا کہ اس کا پسماندہ مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھ کہ "دوسرے غریب مسلمانوں کی قیمت پر، آپ شاید جاننا چاہتے ہیں کہ... یہ ہوم ورک کہاں کیا گیا ہے کہ کتنے مسلمان پسماندہ ہیں؟" ایڈوکیٹ انجنا نے بنچ پر زور دیا کہ وہ معاملے کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے بنچ کے ذریعہ اٹھائے گئے سوال پر ایک نوٹ فائل کرنے کی اپیل کی۔
بنچ نے چار ہفتوں کے بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت کرنے پر اتفاق کیا۔ درخواست میں رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے مطابق او بی سی کو ذیلی زمروں میں تقسیم کرکے پسماندہ مسلمانوں کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کی مانگ کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:
کرناٹک مسلم ریزرویشن بل پر روک! گورنر نے اسے صدر جمہوریہ کی منظوری کے لیے روک دیا
او بی سی ریزرویشن پر ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ حکومت کا بڑا فیصلہ

