سپریم کورٹ میں پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت پر فیصلہ محفوظ، آسام حکومت نے الزامات کو ’جعلی‘ قرار دے دیا
پون کھیڑا نے مؤقف اختیار کیاکہ اگر انہیں پیشگی ضمانت نہیں دی جاتی تو اس قانونی سہولت کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔

Published : April 30, 2026 at 1:49 PM IST
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما پون کھیڑا کی جانب سے دائر پیشگی ضمانت (انٹیسپیٹری بیل) کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یہ معاملہ آسام میں درج اس مقدمے سے متعلق ہے جس میں انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کی اہلیہ پر متعدد پاسپورٹس اور بیرونِ ملک جائیدادوں کے الزامات عائد کیے تھے۔
سماعت کے دوران پون کھیڑا نے عدالتِ عظمیٰ کو مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں اس کیس میں پیشگی ضمانت نہیں دی جاتی تو اس قانونی سہولت کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر لگائے گئے الزامات مقدمے کے دوران زیرِ سماعت آ سکتے ہیں، مگر گرفتاری کے ذریعے انہیں ذلیل کرنا ضروری نہیں۔
دوسری جانب آسام حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ پون کھیڑا نے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کے پاسپورٹس سے متعلق جو دستاویزات پیش کی ہیں وہ ’جعلی‘ اور ’رد و بدل شدہ‘ ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب وزیر اعلیٰ کی اہلیہ رینیکی بھویان شرما نے گواہاٹی کرائم برانچ میں پون کھیڑا اور دیگر کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا۔
اس سے قبل گواہاٹی ہائی کورٹ نے پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت کے جج جسٹس پرتھوی جیوٹی سیکیّا نے 24 اپریل کو درخواست خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے اور تحقیقات ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے پون کھیڑا کو سات دن کی عبوری پیشگی ضمانت دی تھی، تاہم آسام پولیس نے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ بعد ازاں عدالتِ عظمیٰ نے عبوری ضمانت پر روک لگاتے ہوئے کھیرا کو ہدایت دی تھی کہ وہ گواہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پون کھیرا کی مشکلات میں اضافہ، سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹ دیا، پیشگی ضمانت پر روک لگا دی
سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے، جس کا انتظار قانونی اور سیاسی حلقوں میں شدت سے کیا جا رہا ہے۔

