ETV Bharat / bharat

سونیا گاندھی نے خامنہ ای کے قتل پر مودی سرکار کی خاموشی کی مذمت کی، پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ

سونیا گاندھی نے ایران معاملے پر مودی حکومت کی خاموشی کو 'فرض سے غفلت' قرار دیا۔

Congress Parliamentary Party Chairperson Sonia Gandhi
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی (PTI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : March 3, 2026 at 11:06 AM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے منگل کو کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگٹ کلنگ پر حکومت کی خاموشی غیر جانبدارانہ نہیں بلکہ 'فرض سے غفلت' ہے۔ اس سے بھارت کی خارجہ پالیسی کی ساکھ اور سمت کے بارے میں سنگین شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

کانگریس کے سابق صدر نے مطالبہ کیا کہ جب پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا دوسرا حصہ شروع ہو تو عالمی نظام کے ٹوٹنے پر سرکار کی "پریشان کن خاموشی" پر بغیر کسی ٹال مٹول کے کھلی بحث ہونی چاہیے۔

ایک اخبار میں شائع ایک مضمون میں گاندھی نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر اپنی اخلاقی طاقت کو "دوبارہ پانے" کی ضرورت ہے اور اس کا واضح طور پر اور پُر عزم انداز میں اظہار کرنا ہے۔ گاندھی نے کہا کہ "یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو حالیہ امریکی اور اسرائیل کے ٹارگٹ حملوں میں قتل کر دیا گیا۔ جاری مذاکرات کے دوران ایک موجودہ سربراہ مملکت کا قتل آج کے بین الاقوامی رشتوں میں بڑی دراڑ ظاہر کرتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے صدمے کے علاوہ جو بات اتنی ہی واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ ہے 'نئی دہلی کی خاموشی۔' انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے اس قتل یا ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔

گاندھی نے کہا کہ "ابتدا میں امریکہ-اسرائیل کے بڑے حملے کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعظم (نریندر مودی) نے یو اے ای پر ایران کے جوابی حملے کی مذمت تک خود کو محدود رکھا، بغیر اس سے پہلے کے واقعات پر بات کیے۔

متعلقہ خبر: پی ایم مودی نے نیتن یاہو اور یو اے ای کے صدر سے ٹیلیفون پر کی بات، لوگوں کی حفاظت پر دیا زور

بعد میں انہوں نے اپنی "گہری تشویش" کے بارے میں عام باتیں کہیں اور "مکالمہ و سفارت کاری" کے بارے میں بات کی - جو کہ اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ کیے گئے بڑے اور بلا اشتعال حملوں سے پہلے یہی چل رہا تھا۔

گاندھی نے اپنے مضمون میں کہا کہ "جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹ کلنگ پر ہمارے ملک کی خودمختاری یا بین الاقوامی قانون کا کوئی واضح دفاع نہیں ہوتا، اور غیر جانبداری کو ترک کر دیا جاتا ہے، تو یہ ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ پر سنگین شکوک پیدا کرتا ہے۔"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبدارانہ نہیں ہے۔ گاندھی نے نشاندہی کی کہ یہ قتل جنگ کے باضابطہ اعلان کے بغیر اور جاری سفارتی عمل کے دوران ہوا۔ انہوں نے کہا کہ "اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2(4) کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے منع کرتا ہے۔ موجودہ ریاست کے سربراہ کی ٹارگٹ کلنگ ان اصولوں کے دل پر حملہ ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا اسرائیل دورہ: پی ایم مودی کو 'اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل' سے نوازا گیا

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی طرف سے بغیر کسی اصولی اعتراض کے ایسے کام ہوتے ہیں تو بین الاقوامی قوانین کا ختم ہونا معمول بن جاتا ہے۔ گاندھی نے مزید کہا کہ "ٹائمنگ کی وجہ سے بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے۔"

قتل سے بمشکل 48 گھنٹے قبل وزیراعظم اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے غزہ جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی غم و غصے کے باوجود بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا واضح طور پر اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب گلوبل ساؤتھ کے بیشتر ممالک بشمول بڑی طاقتیں اور بھارت کے برکس پارٹنرز جیسے روس اور چین نے اسرائیل سے دوری بنا رکھی ہے، بھارت کی اعلیٰ سطح کی سیاسی حمایت بغیر کسی اخلاقی وضاحت کے ایک واضح اور پریشان کن تبدیلی ہے۔

متعلقہ خبر: کانگریس کی مودی کے اسرائیل دورے پر شدید تنقید، اسے ’’شرمناک‘‘ اور ’’غلط وقت‘‘ قرار دے دیا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "اس واقعے (خامنہ ای کے قتل) کے نتائج جغرافیائی سیاست سے بالاتر ہیں۔ اس المناک واقعے کے اثرات تمام براعظموں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اور بھارت کا موقف اس تکلیف دہ واقعے کو اپنی خاموش حمایت دے رہا ہے۔" سونیا گاندھی نے نشاندہی کی کہ کانگریس پارٹی نے واضح طور پر ایرانی سرزمین پر بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کی ہے اور اسے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج کے ساتھ خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے ایرانی عوام اور دنیا بھر کی شیعہ برادری کے تئیں اپنی تعزیت کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے، جیسا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51 میں درج ہے۔ خود مختاری کی برابری، عدم مداخلت اور امن کو فروغ دینے کے یہ اصول تاریخی طور پر بھارت کی سفارتی پہنچان کا حصہ رہے ہیں۔ اس لیے ابھی کی خاموشی صرف حکمت عملی نہیں، بلکہ ہمارے بیان کردہ اصولوں سے الگ محسوس ہوتی ہے۔"

مزید پڑھیں:

ایرانی میڈیا نے کردی تصدیق، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں

خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور پوتے بھی مارے گئے؛ ایران غم میں ڈوب گیا، چالیس روزہ سوگ کا اعلان، لوگ سڑکوں پر نکل آئے

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کی اہلیہ انتقال کر گئیں، اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد زیر علاج تھیں

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر غم وغصہ: دیکھیے کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے

کشمیری شعیہ لیڈر نے مظاہرین سے کی امام بارگاہوں میں سوگ منانے کی اپیل

خامنہ ای کے قتل کے خلاف پاکستان میں خونریز احتجاج، کم از کم 22 افراد ہلاک، مظاہرین کی امریکی قونصل خانے پر حملے کی کوشش