ETV Bharat / bharat

سونیا گاندھی کے خلاف ووٹر لسٹ معاملے میں ایف آئی آر کی درخواست پر فیصلہ مؤخر

درخواست میں دعویٰ کیاگیا کہ سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ سے 1982 میں ہٹا دیا گیا اور پھر 1983 میں دوبارہ شامل کیا گیا۔

سونیا گاندھی کے خلاف ووٹر لسٹ معاملے میں ایف آئی آر کی درخواست پر فیصلہ مؤخر
سونیا گاندھی کے خلاف ووٹر لسٹ معاملے میں ایف آئی آر کی درخواست پر فیصلہ مؤخر (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 13, 2026 at 6:12 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی : کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی کے خلاف 1980 میں مبینہ طور پر ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پر دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے اپنا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت مؤخر ہوا جب اس معاملے کی سماعت کرنے والے خصوصی جج وشال گوگنے کی منتقلی ہوگئی۔ اب نئے جج پرشانت کمار اس معاملے میں فیصلہ سنائیں گے۔

یہ درخواست وکیل وکاس ترپاٹھی نے دائر کی ہے، جنہوں نے مجسٹریٹ عدالت کے اس حکم کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ درخواست گزار کا بنیادی الزام ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں نئی دہلی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، جبکہ ان کے مطابق سونیا گاندھی نے ہندوستانی شہریت 1983 میں حاصل کی تھی۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے بعد 1982 میں ہٹا دیا گیا اور پھر 1983 میں دوبارہ شامل کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر یہ ریکارڈ درست ہے تو اس وقت ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے جعلی یا غلط دستاویزات کا استعمال کیا گیا ہوگا۔ درخواست گزار نے اسی بنیاد پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت دینے کی عدالت سے اپیل کی ہے۔

اس معاملے میں ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے ستمبر 2025 میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اس کے بعد وکاس ترپاٹھی نے سیشن کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی۔ راؤز ایونیو عدالت میں معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے خود بھی اس سوال پر توجہ دلائی تھی کہ اگر سونیا گاندھی نے 1983 میں ہندوستانی شہریت حاصل کی تو اس سے پہلے ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔ تاہم عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ تقریباً نصف صدی پرانے معاملے میں اب تحقیقات کس بنیاد پر اور کن افراد کے خلاف کی جائیں گی۔

سونیا گاندھی کی جانب سے عدالت میں اس درخواست کی مخالفت کی گئی ہے۔ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزات کی صداقت مشکوک ہے اور معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ ایک غیر ضروری اور وسیع تر تفتیش کی طرف لے جاسکتا ہے۔ 25 جولائی کو خصوصی جج وشال گوگنے نے معاملے پر اپنا حکم محفوظ کیا تھا اور فریقین سے تحریری دلائل بھی طلب کیے تھے۔ اس وقت عدالت نے 13 اگست کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی۔ تاہم جج کی منتقلی کے باعث اب فیصلہ نئے جج پرشانت کمار سنائیں گے۔

درخواست گزار نے اس مقدمے میں 1980 کی الیکشن کمیشن سے متعلق ایک رپورٹ اور دیگر دستاویزات ریکارڈ پر لانے کی کوشش کی ہے۔ عدالت میں اس معاملے پر بھی بحث ہوئی کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے اور بعد میں حذف ہونے کے ریکارڈ سے اصل صورتحال کیا ثابت ہوتی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ دستیاب ریکارڈ بادی النظر میں تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ سونیا گاندھی کی جانب سے اس کے قانونی جواز اور دستاویزات کی صداقت پر اعتراض کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اختتام کو پہنچا، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست ابھی عدالت کے سامنے زیر غور ہے۔ عدالت نے نہ تو سونیا گاندھی کو کسی جرم کا مرتکب قرار دیا ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہوا ہے کہ ووٹر لسٹ میں ان کا نام شامل کرانے کے لیے جعلی دستاویزات استعمال کی گئی تھیں۔ اب نئے جج پرشانت کمار کے سامنے اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا درخواست گزار کے الزامات ایسے ہیں جن کی بنیاد پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا حکم دیا جانا چاہیے یا نہیں۔