ETV Bharat / bharat

سپریم کورٹ نے ہیمنت سورین کے خلاف ای ڈی کی کارروائی پر عارضی روک لگا دی

ای ڈی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ ٹرائل تقریباً مکمل ہے، سات سمن جاری کیے گئے، مگر سورین ایک بار بھی پیش نہیں ہوئے۔

سپریم کورٹ نے ہیمنت سورین کے خلاف ای ڈی کی کارروائی پر عارضی روک لگا دی
سپریم کورٹ نے ہیمنت سورین کے خلاف ای ڈی کی کارروائی پر عارضی روک لگا دی (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 25, 2026 at 2:02 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بدھ کے روز جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے خلاف ای ڈی کی جانب سے شروع کی گئی فوجداری کارروائی پر عبوری روک لگا دی۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت جاری سمن کی مبینہ عدم تعمیل سے متعلق تھی۔

یہ معاملہ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ عدالت نے سورین کی عرضی پر ای ڈی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔ سورین نے اپنی درخواست میں نہ صرف مقدمہ خارج کرنے بلکہ ای ڈی کی جانب سے بار بار جاری کیے گئے سمن کو بھی چیلنج کیا تھا۔

ای ڈی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل تقریباً مکمل ہے، سات سمن جاری کیے گئے، مگر سورین ایک بار بھی پیش نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس سورین کے وکیل مکول روہتگی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل تین مرتبہ پیش ہو چکے ہیں اور بعد میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ ای ڈی نے یہ بھی کہا کہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست تاخیر سے دائر کی گئی، کیونکہ مجسٹریٹ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے ایک سال بعد یہ عرضی داخل کی گئی۔

چیف جسٹس نے زبانی طور پر کہا کہ ای ڈی کو اپنے وسائل کو مؤثر مقدمات پر مرکوز کرنا چاہیے اور بے جا کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ جسٹس بگچی نے بھی ریمارکس دیے کہ ایجنسی کو مؤثر استغاثہ پر توجہ دینی چاہیے۔ 15 جنوری کو ہائی کورٹ نے سورین کے خلاف خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے فیصلے کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا، جو جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے رہنما کے لیے ایک دھچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: این سی ای آر ٹی آتھویں کی کتاب میں 'عدلیہ میں بدعنوانی': سپریم کورٹ نے نوٹس لیا، سی جے آئی نے کہا، کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

ای ڈی نے سورین کے خلاف مبینہ لینڈ اسکام کیس میں بار بار طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر شکایت درج کی تھی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی عبوری راحت کے بعد اب معاملہ مزید سماعت کے لیے زیر التوا رہے گا۔