لال قلعہ بلاسٹ معاملہ: 13 ملزمین کے خلاف دائر چارج شیٹ پر عدالت کا نوٹس
این آئی اے کے مطابق 10 نومبر 2025ء کو لال قلعے کے باہر ہوئے کار بم دھماکے کی منصوبہ بندی عمر النبی نے کی تھی۔


Published : August 29, 2026 at 2:58 PM IST
نئی دہلی: دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے لال قلعہ بلاسٹ معاملے میں این آئی اے کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ پر نوٹس (Cognizance) لے لیا ہے۔ اسپیشل جج پرشانت کمار نے معاملے کی اگلی سماعت 9 ستمبر کو کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے 13 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ پر نوٹس لینے کا حکم جاری کیا۔ پہلے یہ معاملہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں چل رہا تھا، لیکن بعد میں راؤز ایونیو میں این آئی اے کورٹ قائم ہونے کے بعد اب اس معاملے کی سماعت راؤز ایونیو کورٹ کر رہی ہے۔ اس سے قبل این آئی اے نے 6 جولائی کو لال قلعہ بلاسٹ میں ہلاک ہونے والے 11 افراد سے متعلق فورینسک رپورٹ داخل کی تھی۔ جب کہ 27 جون کو این آئی اے نے ضمنی چارج شیٹ (Supplementary Chargesheet) داخل کی تھی، جس میں تین نئے افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔
تقریباً 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ
ضمنی چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اس معاملے میں کل ملزمین کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ ضمنی چارج شیٹ میں این آئی اے نے ضمیر احمد آہنگر، طفیل احمد بھٹ اور مظفر احمد عرف فراز عرف ظفر کو ملزم بنایا ہے۔ یہ تینوں جموں کے رہنے والے ہیں۔ اس معاملے میں این آئی اے نے پہلی چارج شیٹ 14 مئی کو داخل کی تھی، جس میں دس لوگوں کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق اس دھماکے میں 11 افراد کی موت ہوئی تھی۔ تقریباً 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں این آئی اے نے بم دھماکہ کرنے والے عمر النبی (متوفی) کو بھی ملزم بنایا ہے۔
دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کی تھیں
این آئی اے (NIA) کے مطابق 10 نومبر 2025ء کو لال قلعے کے باہر ہوئے کار بم دھماکے کی منصوبہ بندی عمر النبی نے کی تھی۔ عمر النبی کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی۔ این آئی اے نے ملزم دانش کو سرینگر سے گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کی تھیں اور کار بم دھماکے سے پہلے راکٹ تیار کرنے کی کوشش کی تھی۔
خودکش حملہ آور بنانے کے لیے کا برین واش کیا گیا
این آئی اے کے مطابق دانش نے عمر النبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ این آئی اے کے مطابق پولیٹیکل سائنس (سیاسیات) میں گریجویٹ دانش کو خودکش حملہ آور بنانے کے لیے عمر نے اس کا برین واش (ذہن سازی) کیا تھا۔ وہ اکتوبر 2024ء میں کلگام کی ایک مسجد میں 'ڈاکٹر ماڈیول' سے ملنے کے لیے تیار ہوا، جہاں سے اسے ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی میں رہنے کے لیے لے جایا گیا۔ لال قلعے کے پاس 10 نومبر 2025ء کو ایک کار میں دھماکہ ہوا تھا، جو عامر رشید علی کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: |

