انتخابی ناکامی کے بعد پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں، 1300 سے زائد ملازمین بے روزگار
جے ایس پی کے میڈیا انچارج نے کہاکہ عملے کو پارٹی امیدواروں کی حمایت کےلیے رکھا تھا اور اب انہیں فارغ کر دیا گیا ہے۔

Published : January 9, 2026 at 7:23 PM IST
پٹنہ: معروف انتخابی حکمتِ عملی ساز سے سیاستدان بننے والے پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کو 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد پارٹی سے منسلک مشاورتی ادارے جن سوراج پروفیشنل کنسلٹنسی پرائیویٹ لمیٹڈ نے تقریباً 1300 ملازمین کو برطرف کر دیا۔ یہ برطرفیاں نومبر اور دسمبر کے دوران خاموشی سے کی گئیں۔
انتخابات میں پارٹی 243 رکنی اسمبلی میں ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام رہی۔ ملازمین کو ویڈیو کانفرنسنگ اور زبانی ہدایات کے ذریعے استعفیٰ دینے کو کہا گیا اور انہیں یقین دلایا گیا کہ بقایا تنخواہیں بعد میں ادا کر دی جائیں گی۔ کچھ ملازمین کو 31 دسمبر کو ادائیگی ہوئی، جبکہ کئی اب بھی اپنی تنخواہوں کے منتظر ہیں۔
ایک سابق ملازم نے بتایا، “ہم نے بہار کی سیاست کو بدلنے کے خواب کے ساتھ اپنی محفوظ نوکریاں چھوڑیں، لیکن اب ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہم سے نان ڈسکلوزر ایگریمنٹ (این ڈی اے) پر دستخط بھی کروائے گئے، جس کی وجہ سے اب نئی ملازمت تلاش کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔” ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کی خدمات صرف پانچ ماہ کے لیے درکار ہوں گی۔
پارٹی نے انتخابات سے صرف پانچ ماہ قبل بڑے پیمانے پر بھرتیاں کی تھیں۔ اگرچہ پارٹی تمام اسمبلی حلقوں میں امیدوار کھڑا کرنا چاہتی تھی، لیکن تکنیکی وجوہات کے باعث وہ صرف 238 نشستوں پر ہی الیکشن لڑ سکی۔ پہلی مرحلے کی برطرفیاں 23–24 نومبر کو ہوئیں، جبکہ دوسری لہر 12 دسمبر کو آئی، جس کا مقصد ملازمین کی تعداد کو صفر تک لانا تھا۔ صورتحال سے ناراض کچھ سابق ملازمین نے پٹنہ کے ہائی کمپلیکس میں واقع دفتر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
پارٹی کے میڈیا انچارج عبید الرحمٰن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی ضرورت کے تحت لوگوں کو رکھا گیا تھا اور اب ان کی خدمات درکار نہیں رہیں، اس لیے برطرفی ناگزیر تھی۔ جن سوراج پارٹی کے بہار صدر اور سابق سفارتکار منوج بھارتی نے کہا کہ پارٹی نے انتخابی ناکامی کا جائزہ لیا ہے اور تنظیمی کمزوریوں، امیدواروں کے دیر سے اعلان اور این ڈی اے کی جانب سے “جنگل راج” کے بیانیے کو شکست کی بڑی وجوہات قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پرشانت کشور چھوڑیں گے سیاست؟ پی کے نے سیاست چھوڑنے کی نئی شرط کا کیا اعلان، کہا: میں ہار کی لیتا ہوں ذمہ داری
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند رکھیں۔ پارٹی نے ان معاملات پر سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر کی ہے۔ قیادت کا کہنا ہے کہ تنظیم اب گاؤں اور پنچایت سطح پر ازسرِنو ڈھانچہ تشکیل دینے اور رکنیت مہم شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

