وندے ماترم پر خوب سیاست لیکن بنکم چندر کے ادبی سرمایہ کا انگریزی میں ترجمہ نہیں کیا گیا: پروفیسر بھٹاچاریہ
بھٹاچاریہ کے مطابق ملک میں ’’وندے ماترم‘‘ پر سیاسی ہنگامہ ہے لیکن بنکم چندر کے مکمل ادبی سرمایہ کا انگریزی میں ترجمہ نہیں کیا گیا۔

Published : February 24, 2026 at 2:34 PM IST
بولپور : قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کی اشاعت کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ایک بار پھر اس کے مصنف بنکم چندر چٹوپادھیائے کو سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے ممتاز سوانح نگار پروفیسر امیترسودن بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ’’ساہتیہ سمرت‘‘ آج بھی حقیقی معنوں میں نظر انداز ہیں۔
پروفیسر بھٹاچاریہ کے مطابق ملک میں ’’وندے ماترم‘‘ پر سیاسی ہنگامہ تو ہے، مگر بنکم چندر کے مکمل ادبی سرمایہ کا آج تک انگریزی میں ترجمہ نہیں کیا گیا۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ جب مکمل انگریزی ترجمہ موجود ہی نہیں تو ملک اور دنیا کے لوگ بنکم چندر کو کیسے جان سکیں گے؟
حالیہ تنازع کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے ادیب کو ’’بنکم دا‘‘ کہہ کر مخاطب کیا، جس پر بعض حلقوں نے اسے غیر رسمی اور غیر موزوں قرار دیا۔ بنکم چندر چٹوپادھیائے 26 جون 1838 کو شمالی 24 پرگنہ کے گاؤں کانتھل پارہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی رہائش گاہ آج ’’بنکم بھون‘‘ کے نام سے محفوظ ہے، تاہم ان کے نام پر قومی سطح کا کوئی بڑا عجائب گھر، لائبریری یا ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔
پروفیسر امیترسودن بھٹاچاریہ، جو 1942 میں کولکاتا میں پیدا ہوئے، کلکتہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1966 میں وشو بھارتی یونیورسٹی کے ودیا بھون سے وابستہ ہوئے۔ وہ شعبۂ جاپانیات کے سربراہ بھی رہے اور 2007 میں عہدے سے سبکدوش ہوئے، تاہم آج بھی ’’وشو بھارتی پتریکا‘‘ کے مدیر ہیں۔ وہ نائہٹی کے بنکم ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔
1991 میں ان کی 900 صفحات پر مشتمل بنگالی کتاب ’’بنکم جیونی‘‘ شائع ہوئی، جس کے بعد وہ بنکم چندر کے مستند سوانح نگار کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے شانتی نکیتن میں اپنے گھر کا نام بھی بنکم کے مشہور ناول ’’آنند مٹھ‘‘ کے نام پر رکھا ہے۔
بنکم چندر نے ’’وندے ماترم‘‘ کو 1882 میں اپنے ناول ’’آنند مٹھ‘‘ میں شامل کیا۔ یہ گیت پہلی مرتبہ 1896 میں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں رابندرناتھ ٹیگور نے گایا تھا۔ بعد از آزادی 1950 میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر اسے قومی گیت کا درجہ دیا گیا۔
پروفیسر بھٹاچاریہ کے مطابق یہ افسوس ناک ہے کہ آج بھی نہ تو بنکم چندر اور نہ ہی رابندر ناتھ ٹیگور کے مکمل ادبی سرمائے کا انگریزی ترجمہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ کام انجام نہیں دے سکتی تو یہ ملک کے لیے شرم کی بات ہے، کیونکہ یہ دونوں شخصیات صرف بنگال کی نہیں بلکہ پورے بھارت کی مشترکہ ادبی میراث ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آج کی نسل جانتی ہے کہ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کرنے والے انقلابی ’’وندے ماترم‘‘ گاتے ہوئے جوش و جذبہ محسوس کرتے تھے؟ اور کیا بنکم جینتی کو قومی سطح پر منایا جاتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: وندے ماترم پر حکومت کا حکم غیر آئینی، یکطرفہ اور منمانی، جمعیت اور پرسنل لاء بورڈ کا حکم واپس لینے کا مطالبہ
پروفیسر کے مطابق بنکم اور ٹیگور نے ہمیشہ خود کو وسیع تر بھارتی شناخت کا حصہ سمجھا، مگر آج انہیں محض علاقائی ادیبوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جو ان کی ہمہ گیر قومی حیثیت کے منافی ہے۔

