ETV Bharat / bharat

یو پی آئی کے 10 سال مکمل: وسعت اور رسائی ہر بھارتیوں کو فخر : وزیر اعظم مودی

بھارت میں دس برس کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ 2025-26 میں ساری دنیا میں ملک کا حصہ 49 فیصد رہا۔

یو پی آئی کے 10 سال مکمل: وسعت اور رسائی ہر بھارتیوں کو فخر : وزیر اعظم مودی
یو پی آئی کے 10 سال مکمل: وسعت اور رسائی ہر بھارتیوں کو فخر : وزیر اعظم مودی (ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 25, 2026 at 1:02 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے دس سال مکمل ہونے پر اس کی تیز رفتار ترقی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی رسائی کو بھارت کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہائی قبل یو پی آئی کا آغاز بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

وزیر اعظم نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ دس سال قبل یو پی آئی متعارف کرایا گیا، جس نے ملک کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے سفر کو ایک نئی سمت دی۔ ان کے مطابق یو پی آئی کی وسعت اور رسائی ایسی کامیابی ہے جس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے عوام سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ یو پی آئی کے استعمال سے متعلق اپنے تجربات شیئر کریں اور بتائیں کہ اس ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام نے ان کی روزمرہ زندگی کو کس طرح تبدیل کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی یو پی آئی کی دس سالہ کامیابی کو وزیر اعظم مودی کے ڈیجیٹل انڈیا وژن کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے دنیا کو دکھایا ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعے عام شہریوں کو تیز رفتار، آسان اور محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم کرتے ہوئے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امیت شاہ کے مطابق یو پی آئی جدت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کی تبدیلی کے سفر میں وزیر اعظم مودی کے وژن کی ایک نمایاں مثال ہے اور اس نے دنیا کے سامنے سب سے بڑے ریئل ٹائم پیمنٹ سسٹم کی حیثیت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔

نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی جانب سے تیار کیا گیا یو پی آئی اب ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہ نظام اب 11 ممالک میں قابلِ استعمال ہے۔ یونان اور مالدیپ اس نظام کو اپنانے والے تازہ ترین ممالک میں شامل ہیں۔ یو پی آئی کے ذریعے بھوٹان، نیپال، سنگاپور، متحدہ عرب امارات، فرانس، سری لنکا، ماریشس اور قطر سمیت مختلف ممالک میں بھی سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیاں کی جا سکتی ہیں۔

اس طرح یو پی آئی نے نہ صرف ہندوستان کے اندر فوری اور آسان ادائیگیوں کو عام کیا ہے بلکہ بیرونِ ملک بھی بھارتی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کی موجودگی کو وسعت دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران یو پی آئی کے ذریعے ہونے والے لین دین کے حجم اور مالیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کے مطابق مالی سال 2016-17 میں 1.78 کروڑ یو پی آئی ٹرانزیکشنز سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 24,162 کروڑ سے زائد ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئے۔ اس طرح لین دین کے حجم میں تقریباً 13 ہزار گنا اضافہ ہوا۔

اسی عرصے میں لین دین کی مجموعی مالیت بھی 0.07 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 314 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی، یعنی مجموعی مالیت میں 4 ہزار گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وزارتِ خزانہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ دس سال کے دوران یو پی آئی نے غیر معمولی پیمانے اور رفتار کا مظاہرہ کیا ہے۔ جولائی 2026 تک یو پی آئی نیٹ ورک سے 741 بینک منسلک تھے۔ صرف جولائی کے دوران یو پی آئی کے ذریعے 2,365.8 کروڑ ٹرانزیکشنز مکمل ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 29.87 لاکھ کروڑ روپے رہی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یو پی آئی ہندوستان میں روزمرہ خریداری، بلوں کی ادائیگی، رقم کی منتقلی اور دیگر مالی لین دین کے لیے کس قدر وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یو پی آئی کی اہمیت اب ہندوستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں ہونے والے ریئل ٹائم پیمنٹ ٹرانزیکشنز میں تقریباً 49 فیصد حصہ ہندوستان کا تھا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ترقی سے متعلق اپنی رپورٹ میں ہندوستان کی پیش رفت کو نمایاں کیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یو پی آئی میں متعدد نئی سہولتیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید آسان بنایا جا سکے۔ 2025 میں آن ڈیوائس آتھنٹیکیشن متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے صارفین اپنے اسمارٹ فون کے فنگر پرنٹ یا فیس اَن لاک کے ذریعے یو پی آئی ادائیگی کی منظوری دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کچے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، شیئر بازار میں رونق؛ سینسیکس اٹھیاسی اور نفٹی تینتیس پوائنٹس بڑھ کر کھلے

اس کے علاوہ آدھار پر مبنی چہرے کی شناخت کے ذریعے بھی یو پی آئی پن کے لیے آن بورڈنگ کا عمل آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سہولت سے خاص طور پر پہلی مرتبہ ڈیجیٹل ادائیگی استعمال کرنے والے افراد، بزرگ شہریوں اور ایسے لوگوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جنہیں کارڈز تک آسان رسائی حاصل نہیں۔ ایک دہائی مکمل ہونے کے بعد یو پی آئی ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی اہم بنیاد بن چکا ہے، جبکہ اس کی بین الاقوامی توسیع ہندوستان کے ڈیجیٹل مالیاتی ماڈل کو عالمی سطح پر بھی نمایاں کر رہی ہے۔