پی ایم مودی کا پانچ ممالک کا دورہ ختم، آج کاؤنسل آف منسٹرز کی اہم میٹنگ، مغربی ایشیا کے بحران پر رہے گا فوکس
وزیر اعظم مودی کے غیر ملکی دورے کا آخری پڑاؤ اٹلی تھا۔ اس دورے نے ہندوستان-اٹلی خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو "نئی رفتار" دی ہے۔


Published : May 21, 2026 at 10:52 AM IST
نئی دہلی: مغربی ایشیا کے بحران اور عالمی توانائی کی سلامتی پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، ہالینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے اپنے چھ روزہ دورے سے واپسی کے فوراً بعد جمعرات کی شام قومی دارالحکومت میں سیوا تیرتھ میں وزراء کونسل کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے جس کا مقصد باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
مبینہ طور پر شام 5 بجے ہونے والی یہ میٹنگ، (جس میں ممکنہ طور پر مرکزی کابینہ کے وزراء، آزادانہ چارج کے ساتھ وزرائے مملکت اور یونین منسٹرس شرکت کریں گے) یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد رکاوٹوں کی وجہ سے توانائی کی سلامتی پر عالمی خدشات بڑھ گئے ہیں، جو ایک اہم سمندری تجارتی راستہ ہے۔
Una partnership strategica speciale che non solo andrà a beneficio delle nostre nazioni ma anche dell’intera umanità!
— Narendra Modi (@narendramodi) May 20, 2026
I risultati della mia visita in Italia garantiranno maggiori collegamenti per gli investimenti, migliori opportunità commerciali, legami culturali più stretti e… https://t.co/lDV5F0xN1Y
مغربی ایشیا کا جاری بحران، ایندھن کی قیمتوں کے خدشات
ذرائع کے حوالے سے اے این آئی نے رپورٹ کیا کہ اس میٹنگ کو حکومت کی کارکردگی کا ایک اہم وسط مدتی جائزہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ اس میں گورننس کے مسائل، مغربی ایشیا کے جاری بحران، ایندھن کی قیمتوں کے خدشات اور ممکنہ سیاسی پیش رفت پر توجہ دی جائے گی۔
#WATCH | Prime Minister Narendra Modi arrives at the Delhi airport after concluding his 5-nation visit to the United Arab Emirates (UAE), the Netherlands, Sweden, Norway, and Italy.
— ANI (@ANI) May 21, 2026
(Source: ANI/DD News) pic.twitter.com/tK5GnN3WdT
شہریوں سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی اپیل
وزیر اعظم مودی نے اس سے قبل شہریوں سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرکے اور ماحولیاتی طور پر پائیدار متبادل کو اپنا کر اقتصادی لچک میں حصہ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔ توانائی کے بحران کو ذہن میں رکھتے ہوئے، انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، کار پولنگ کا انتخاب کریں، سامان کی نقل و حمل کے لیے ریلوے کو ترجیح دیں اور جہاں ممکن ہو الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھائیں۔
India-Italy ties going from strength to strength!
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) May 20, 2026
The final leg of the PM @narendramodi’s 5-country tour concludes. PM has departed for India after a successful visit to Italy marked by significant outcomes and fresh momentum in deepening the Special Strategic Partnership with… pic.twitter.com/dGMHjaZCWj
پورے ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ہفتے کے شروع میں پورے ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت 87 پیسے بڑھ کر 98.64 روپے فی لیٹر ہو گئی، جب کہ ڈیزل کی قیمت 91 پیسے بڑھ کر 91.58 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ اسی طرح کے اضافے ممبئی، چنئی اور کولکتہ اور ملک بھر کے تمام شہروں میں ریکارڈ کیے گئے۔
Concluding a very productive visit to Italy. My discussions with Prime Minister Giorgia Meloni covered a wide range of sectors. A key outcome of the visit was our decision to elevate India-Italy ties to a Special Strategic Partnership, which will add new momentum to our… pic.twitter.com/3zjtt6uVeL
— Narendra Modi (@narendramodi) May 20, 2026
اٹلی کی وزیر اعظم میلونی کے ساتھ اقتصادی تعاون پر گفتگو
قبل ازیں وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے اپنے دورے مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو ہندوستان واپس آئے۔ پی ایم مودی کے پانچ ملکوں کے دورے کا آخری پڑاؤ اٹلی تھا۔ یہاں پی ایم مودی نے اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ اقتصادی تعاون اور دیگر مسائل پر بات چیت کی۔
جارجیا میلونی کے ساتھ اپنی بات چیت کے بعد، پی ایم مودی نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا، "ایک خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری سے نہ صرف ہمارے ممالک بلکہ پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے گا! میرے اٹلی کے دورے کا نتیجہ بہتر سرمایہ کاری کے تعلقات، زیادہ کاروباری مواقع، مضبوط ثقافتی تعلقات اور بہت کچھ کو یقینی بنائے گا۔"
بڑے عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ روابط
اس دورے کا مرکز ہندوستان کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا، اقتصادی تعاون کو بڑھانا اور یوروپ اور اس سے باہر کے بڑے عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ روابط کو بڑھانا تھا۔ وزیر اعظم مودی کے اٹلی روانہ ہونے کے بعد، وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس دورے نے ہندوستان-اٹلی خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو "نئی رفتار" دی ہے اور کئی شعبوں میں باہمی تعاون کو گہرا کیا ہے۔
اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں نئی رفتار
ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا، "ہندوستان-اٹلی کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا پانچ ملکوں کا دورہ مکمل ہو گیا ہے۔" وزیر اعظم اٹلی کے کامیاب دورے کے بعد ہندوستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جس کے اہم نتائج دیکھنے میں آئے اور اٹلی کے ساتھ خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں نئی رفتار آئی۔
مودی اور میلونی نے دو طرفہ ملاقاتوں کے دوران کئی بار ملاقاتیں کی
وزیر اعظم مودی کا اٹلی کا دورہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب نئی دہلی اور روم تجارت، دفاع، صاف توانائی، ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور ہند-بحرالکاہل کے شعبوں میں تعاون کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تیزی آئی ہے، (خاص طور پر 2023 میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے G20 سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان کے دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی طرف بلند کرنے کے بعد) تب سے، دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی سیاسی بات چیت اور ادارہ جاتی تعاون کے طریقۂ کار کو مضبوط کیا ہے۔ مودی اور میلونی نے عالمی سطح پر بھی واضح سیاسی مشغولیت کی ہے اور بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں اور دو طرفہ ملاقاتوں کے دوران کئی بار ملاقاتیں کی ہیں۔
مضبوط تعاون کے امکانات کی بھی تلاش
عہدیداروں نے بتایا کہ پی ایم مودی کے دورہ اٹلی کے دوران بات چیت میں سرمایہ کاری میں اضافہ، جدید مینوفیکچرنگ اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے اور صاف توانائی کی منتقلی کے اقدامات میں تعاون کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ہندوستان اور اٹلی نے سیمی کنڈکٹرز، ایرو اسپیس، فوڈ پروسیسنگ، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور میری ٹائم سکیورٹی جیسے شعبوں میں مضبوط تعاون قائم کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مضبوط تعاون کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں۔
اطالوی کمپنیوں نے کئی شعبوں میں بھارت میں اپنی موجودگی کو بڑھایا
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ بات چیت کے دوران علاقائی اور عالمی مسائل بھی زیر غور آئے، جن میں ہند-بحرالکاہل کے علاقے میں پیش رفت، روس-یوکرین تنازعہ اور توانائی اور سپلائی چین کے چیلنجز شامل ہیں۔ اٹلی یوروپ میں ہندوستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سی اطالوی کمپنیوں نے انجینئرنگ اور آٹوموبائل سے لے کر قابل تجدید توانائی اور فیشن کے شعبوں میں ہندوستان میں اپنی موجودگی کو بڑھایا ہے۔

