نفرت انگیز تقاریر پر قانون موجود، نیا قانون بنانے کی ضرورت نہیں: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا نے فیصلے میں کہاکہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر کیخلاف قانون سازی کا میدان خالی ہے۔

Published : April 29, 2026 at 5:19 PM IST
نئی دہلی : سپریم کورٹ آف انڈیا نے نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ فوجداری قوانین اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں اور اس معاملے میں کسی ’’قانونی خلا‘‘ کا وجود نہیں ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانون سازی کا میدان خالی ہے۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ قوانین، جن میں سابقہ انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) اور دیگر متعلقہ قوانین شامل ہیں، ایسے تمام افعال کو مؤثر طریقے سے کور کرتے ہیں جو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دیں یا امن عامہ کو متاثر کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں بدلتے ہوئے سماجی حالات کے پیش نظر مزید قانون سازی یا پالیسی اقدامات کی ضرورت محسوس ہو تو یہ کام مقننہ کا ہے، نہ کہ عدلیہ کا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کے تحت عدالتیں نئے جرائم تخلیق نہیں کر سکتیں اور نہ ہی قانون سازی پر مجبور کر سکتی ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ قانونی فریم ورک، بشمول بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا 2023، پولیس کو لازم قرار دیتا ہے کہ قابلِ دست اندازی جرم کی صورت میں ایف آئی آر درج کرے، اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کے خلاف مؤثر قانونی راستے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حراست میں دو ہفتے: مہاراشٹر اور کرناٹک کے مدرسوں میں پڑھنے کے لیے جا رہے بہار کے 163 بچوں کا دردناک تجربہ
سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ نفرت انگیز تقاریر اور افواہ سازی جیسے مسائل براہ راست معاشرتی ہم آہنگی، وقار اور آئینی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے موجودہ قوانین کا مؤثر نفاذ نہایت ضروری ہے۔ تفصیلی فیصلہ جلد جاری کیا جائے گا۔

