ETV Bharat / bharat

اتحاد پر بھاگوت کا بیان مسلمانوں کے تئیں آر ایس ایس کے نظریات کے بالکل برعکس: اویسی

اویسی کے مطابق بھاگوت کا بیان دنیا کو دکھانے کا پرانا طریقہ ہے، جبکہ درحقیقت آر ایس ایس مفکرین مسلمانوں کو داخلی خطرہ مانتے ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی (File Photo: ANI)
author img

By PTI

Published : August 31, 2026 at 10:57 AM IST

7 Min Read
Choose ETV Bharat

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے اتوار کے روز الزام لگایا کہ ہندو مسلم اتحاد پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیانات کا مقصد تنظیم کی ایک الگ شبیہ پیش کرنا ہے، جب کہ تنظیم کے اہم مفکرین مسلمانوں کو ایک 'داخلی خطرہ' سمجھتے رہے ہیں۔

نیویارک میں 'ون ورلڈ: ون ہیومینٹی فیتھ لیڈرز سمٹ' سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا تھا کہ اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ بھارت میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں، تو وہ ہندو نہیں رہے گا۔

بھاگوت کے ان بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک تفصیلی پوسٹ میں لکھا کہ "یہ آر ایس ایس کی پرانی حکمت عملی ہے: کچھ الفاظ دنیا کے لیے ہوتے ہیں، اور کچھ اپنے اراکین کے لیے۔ آر ایس ایس نے کبھی بھی اپنے اہم مفکرین اور مصنفین سے لا تعلقی کا اظہار نہیں کیا۔ یہ کون نہیں جانتا کہ وہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟"

آر ایس ایس کے بانی کے بی ہیڈگیوار کی سوانح عمری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیڈگیوار نے انڈین نیشنل کانگریس سے راہیں اس لیے جدا کی تھیں کیونکہ "گاندھی جی مسلسل ہندو مسلم اتحاد کو مدنظر رکھ کر کام کرتے تھے۔" اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے کہا کہ "دراصل، انہوں (ہیڈگیوار) نے 'ہندو مسلم اتحاد' کے نعرے کو کبھی پسند نہیں کیا۔"

اویسی نے آر ایس ایس کے سابق سربراہ ایم ایس گولولکر کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ "ایک جھنڈے (بھگوا)، ایک رہنما اور ایک نظریے سے متاثر تھا"۔ انہوں نے کہا کہ "گولولکر کی کتاب 'بنچ آف تھاٹس' میں ایک طویل باب ہے جس کا عنوان 'داخلی خطرات' ہے، اس میں بھارت کے مسلمان اور عیسائی شہریوں کو بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر کا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔"

اویسی نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت یکساں سول کوڈ کے نام پر مسلمانوں پر "ہندو قانون نافذ" کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ عیسائیوں کو تبدیلیٔ مذہب کے "سخت اور ظالمانہ" قوانین کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اویسی کے رد عمل کی تفصیلات

ایم آئی ایم سربراہ نے سات پوائنٹس میں سلسلے وار طریقے سے اپنا رد عمل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آر ایس ایس نے ہماری جنگِ آزادی میں کوئی تعاون نہیں کیا۔ اس کے بانی، ہیڈگیوار، انڈین نیشنل کانگریس میں شامل تھے لیکن انہوں نے اسے اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ وہ گاندھی جی کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف شروع کی جانے والی جنگِ آزادی میں تمام مذہبی برادریوں کے شامل ہونے کے خلاف تھے۔ آر ایس ایس کی طرف سے شائع کردہ ہیڈگیوار کی ایک سوانح عمری میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس سے راہیں اس لیے جدا کیں، کیونکہ 'گاندھی جی مسلسل ہندو مسلم اتحاد کو مدنظر رکھ کر کام کرتے تھے، لیکن ہیڈگیوار نے اس قدم میں خطرہ محسوس کیا۔ دراصلاً، انہوں نے 'ہندو مسلم اتحاد' کے اس نئے نعرے کو کبھی بھی پسند نہیں کیا تھا'۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کتابوں کے صفحات کا حوالہ بھی دیا۔

مزید پڑھیں: آسام یو سی سی بل مسلمانوں پر ’ہندو قانون‘ تھوپنے کی کوشش: اسدالدین اویسی

دوسرے پوائنٹ میں اویسی نے لکھا کہ آر ایس ایس جمہوریت کی مخالفت کرتی ہے اور اس نے مسلسل آمریت کا مطالبہ کیا ہے۔ گولولکر نے سال 1940 میں اعلان کیا تھا کہ 'آر ایس ایس ایک جھنڈے [بھگوا]، ایک لیڈر اور ایک نظریے سے متاثر ہے'۔

اویسی نے تیسرے پوائنٹ میں لکھا کہ ''کیا ہمیں بھول جانا چاہیے کہ آر ایس ایس کی بالواسطہ حکومت کے تحت گجرات کے مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ 'بیٹیوں کی ان کے باپوں کے سامنے اجتماعی آبروریزی کی گئی اور پھر ان کے سر کچل دیے گئے۔ ان کے باپوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ ان کی املاک کو لوٹا گیا۔ ان کے کاروبار تباہ کر دیے گئے۔ اور پولیس خاموش کھڑی دیکھتی رہی اور کچھ نہیں کیا۔''

بھاگوت کے بیان کے رد عمل میں اسد الدین اویسی نے چوتھی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''آر ایس ایس کے لیے، بھارتی مسلمان اور عیسائی بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر کے 'داخلی خطرات' ہیں۔"

انہوں نے پانچویں پوائنٹ میں لکھا کہ ''گولولکر کی کتاب 'بَنچ آف تھاٹس' میں ایک لمبا باب جس کا عنوان 'داخلی خطرات' ہے، اس میں بھارت کے مسلم اور عیسائی شہریوں کو بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر کا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ گولولکر کا کہنا ہے کہ مسلم شہریوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔"

یہ بھی پڑھیں: وندے ماترم کی توہین کو قابل سزا جرم بنانے سے متعلق مرکز کے اقدامات پر پھوٹا اویسی کا غصہ، کہا۔۔۔۔ملک کسی دیوی یا دیوتا سے نہیں چلتا

اسی کے ساتھ انہوں نے پانچویں پوائنٹ میں لکھا کہ ''عیسائیوں کے بارے میں گولولکر کا کہنا ہے کہ یہ برادری 'ہماری زندگی کے مذہبی اور سماجی تانے بانے کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔"

ساتویں پوائنٹ میں لکھا کہ یہ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت ہی ہو رہا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نام پر مسلمانوں پر ہندو قانون نافذ کیا جا رہا ہے۔ تبدیلیٔ مذہب کے سخت اور ظالمانہ قوانین کے نام پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اور یو اے پی اے جیسے قوانین کے شدید غلط استعمال کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔"

اویسی نے آخر میں لکھا کہ بھاگوت سے میری گزارش ہے کہ وہ ساورکر، ہیڈگیوار، گولولکر وغیرہ کی زہریلی تصانیف سے کچھ چیدہ چیدہ اقتباسات پڑھ کر سنا دیں۔ پھر لوگوں کو خود فیصلہ کرنے دیں کہ وہ آر ایس ایس کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں۔"

(ایجنسی ان پٹ میں اضافے کے ساتھ)

مزید پڑھیں:

گجرات اسمبلی میں منظور یو سی سی بل اور ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ غیر آئینی: اسدالدین اویسی
"ایک دن بی جے پی گوڈسے کو بھارت رتن سے نوازے گی": اسدالدین اویسی نے ساورکر کے لیے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے مطالبے کی مذمت کی

ہندوستانی آئین "ہم ہندوستان کے لوگ" سے شروع ہوتا ہے، "بھارت ماتا" سے نہیں: اویسی

بی جے پی ہندوتوا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے، مسلمانوں کو بنگلہ دیشی کہا جا رہا ہے: اسدالدین اویسی کا الزام

وزیرِاعلیٰ آسام ہیمنت بسوا سرما کا متنازع بیان: "آئین اجازت دیتا ہے، مگر بھارت کا وزیرِاعظم ہندو ہی ہوگا"

ایس آئی آر بیک ڈور این آر سی ہے، لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے سے روکا جا رہا ہے، اویسی