عمر خالد کیلئے ممدانی کا پیغام: بھارت اپنے داخلی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا، بی جے پی
عمر خالد اور دیگر سماجی کارکنان سنہ دہلی فسادات 2020 کے معاملے میں تقریباً پانچ برسوں سے جیل میں بند ہیں۔

By PTI
Published : January 3, 2026 at 7:37 AM IST
نئی دہلی: بی جے پی نے جمعہ کو نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی پر جیل میں بند سماجی کارکن عمر خالد کے لیے ایک نوٹ لکھ کر 'بھارت کے اندرونی معاملے میں مداخلت' کرنے کا الزام عائد کیا اور زور دے کر کہا کہ بھارت ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔
بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے نیویارک سٹی کے میئر کو 'بھارت کے داخلی معاملات پر تبصرہ' کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر بھارت کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو 140 کروڑ بھارتی عوام وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں متحد ہوں گے۔"
LIVE: BJP National Spokesperson Shri @gauravbhatiabjp addresses press conference at BJP headquarters, New Delhi. https://t.co/shWwmjnD7Z
— BJP (@BJP4India) January 2, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے لوگوں کا ملک کی عدلیہ پر "مکمل اعتماد" ہے۔ اس سے قبل وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے جمعہ کو ممدانی کو جیل میں بند سماجی کارکن عمر خالد کے لیے نوٹ لکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں الزام لگایا کہ انہوں نے "بھارت کو تقسیم کرنے کی بات کرنے والے مجرموں " کا دفاع کر کے قرآن کی توہین کی۔
یہ رد عمل اس وقت سامنے آئے جب ممدانی نے خالد کے لیے ایک پیغام میں لکھا، "پیارے عمر، میں اکثر کڑواہٹ کے بارے میں تہماری باتوں اور اسے خود پر حاوی نہ ہونے دینے کی اہمیت کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آپ کے والدین سے مل کر بہت اچھا لگا۔ ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔"
امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے ریاستہائے متحدہ میں بھارت کے سفیر ونے کواترا کو ایک خط لکھا، جس میں خالد کے لیے "بین الاقوامی قانون کے مطابق" منصفانہ اور بروقت ٹرائل پر زور دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھاٹیہ نے الزام لگایا کہ "اگر کوئی کسی ملزم کی حمایت میں سامنے آتا ہے اور بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔"
Zohran Mamdani writes to Umar Khalid.
— banojyotsna ... (@banojyotsna) January 1, 2026
December 2025. #FreeUmarKhalid#FreeAllPoliticalPrisoners pic.twitter.com/QTYe06cRp5
"یہ کون باہری شخص ہے جو ہماری جمہوریت اور عدلیہ پر سوال اٹھاتا ہے، اور وہ بھی ایسے شخص کی حمایت میں سامنے آ رہا ہے جو بھارت کو توڑنا چاہتا ہے؟ یہ صحیح نہیں ہے۔" بی جے پی کے ترجمان پارٹی ہیڈکوارٹر پر جب ممدانی کے نوٹ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے یہ رد عمل دیا۔
بھاٹیہ نے راہل گاندھی پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ کانگریس لیڈر اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران "بھارت مخالف قوتوں اور بھارت کے دشمنوں" سے ملتے ہیں اور انہیں بھارت کے خلاف "جھوٹ" پھیلانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گاندھی اپنے بیرون ملک دوروں کے دوران بھارت کے بارے میں "جھوٹ" بھی بولتے ہیں، اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ بھاٹیہ نے مزید کہا کہ "ان کے (گاندھی) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ دشمنی رکھیں اور جارج سوروس (امریکی ارب پتی اور سرمایہ کار) اور الہان عمر (امریکہ کی مسلم قانون ساز) کے ساتھ بھائی چارہ برقرار رکھیں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ بھارت کے لوگ انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔"
خالد اور دیگر سماجی کارکنان کے خلاف سخت انسداد دہشت گردی ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، (یو اے پی اے) 1967، اور فروری 2020 کے دہلی فسادات کے "ماسٹر مائنڈ" ہونے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یو اے پی اے کے تحت ضمانت حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
امریکی قانون سازوں کے خط پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وی ایچ پی کے قومی ترجمان ونود بنسل نے کہا کہ "نام نہاد امریکی قانون ساز اور نیویارک سٹی کے میئر بھارت میں مجرموں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن بنگلہ دیش میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خاموش رہتے ہیں۔ جب امریکہ میں ہندوؤں اور ان کے مندروں پر حملے ہوتے ہیں تو وہ خاموش رہتے ہیں۔"
خالد کے لیے ایک نوٹ لکھنے پر ممدانی پر تنقید کرتے ہوئے وی ایچ پی کے ترجمان نے کہا کہ نیویارک سٹی کے میئر کو ایسا کرنے سے پہلے ان کے بارے میں "سچائی" کا پتہ لگا لینا چاہیے تھا۔ ’’یہ کیسی ذہنیت ہے؟ قاتلوں کے ساتھ کھڑے نو منتخب میئر، جنہوں نے قرآن پر حلف اٹھایا، اس کی توہین کر رہے ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ بنسل نے مزید کہا کہ ممدانی ’’خود کا جائزہ لیں۔‘‘
مزید پڑھیں:
دہلی فسادات: عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ
عمر خالد کی اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت منظور
جائز احتجاج کو دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا، سپریم کورٹ میں عمر خالد کی دلیل

