نیپال سیلاب کا سانحہ: بھارت-نیپال سرحد کے سُستا جھولا پل پر دہشت کا منظر
نیپال میں آنے والی شدید قدرتی آفت کے بعد کیا ہیں وہاں کے حالات پڑھیے نامہ نگار اونکار شکلا کی گراؤنڈ رپورٹ۔

Published : August 30, 2026 at 3:44 PM IST
مہاراج گنج، اترپردیش: نیپال کی قدرتی آفت نے سرحدی علاقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تقریباً تین کلومیٹر طویل سُستا جھولا پل، جو کبھی دونوں ممالک کے سیاحوں سے بھرا رہتا تھا، آج خوف کے سائے میں ہے۔ پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود نارائنی ندی کا روپ اتنا ہولناک ہے کہ لوگ کنارے جانے سے بھی کترا رہے ہیں۔ سُستا اور سرحدی دیہات کے تازہ ترین حالات کیا ہیں؟
قدرت کی طرف سے جب اجتماعی آفت آتی ہے تو سب کچھ بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ "آفتیں صرف جغرافیائی سرحدیں ہی نہیں بدلتیں، بلکہ یہ انسانی بستیوں، ثقافتوں اور صدیوں پرانے سماجی رشتوں کو بھی پل بھر میں تہس نہس کر دیتی ہیں۔" جب کوئی ہولناک زلزلہ، طوفان یا سیلاب آتا ہے، تو وہ صرف زمین کا نقشہ یا ندی، دریاؤں کا رخ ہی نہیں بدلتا، بلکہ صدیوں سے آباد شہروں، ہنستے کھیلتے خاندانوں اور انسانوں کے خوابوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔ یہ قدرتی آفات اپنے پیچھے محض جغرافیائی تبدیلیاں نہیں چھوڑتیں، بلکہ صدیوں پر محیط معاشی ترقی کو برباد کر کے نسلوں کو نفسیاتی خوف اور روزی روٹی کے شدید بحران میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ سُستا جھولا پل اور نارائنی ندی کے حالیہ حالات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ کس طرح ایک جغرافیائی حادثہ انسانوں کی سماجی لائف لائن، بچوں کی تعلیم اور روزمرہ کے سکون کو چھین کر پوری زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے۔
سرحدی علاقوں میں سناٹا
نیپال میں آنے والے شدید سیلاب اور قدرتی آفت کے بعد سرحد سے متصل نول پراسی ضلع میں حالات انتہائی نازک بنے ہوئے ہیں۔ مشہور سُستا جھولا پل پر سیاحوں کی جگہ صرف خوفناک سناٹا پسرا دکھائی دیا۔ نارائنی-گنڈک ندی میں بہہ کر آنے والے سامان اور لاشوں نے لوگوں کو دہشت میں ڈال دیا ہے اور شہریوں کے دلوں میں ڈر بیٹھ گیا ہے۔ مہاراج گنج میں نیپال سرحد سے جڑے دیہات پتلہوا، مشرولیا، بیٹھولیا اور ڈوما میں لوگ خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے اور امدادی ایجنسیاں تعینات ہیں۔ نیپال فوج، مسلح پولیس فورس (APF) اور مقامی انتظامیہ مسلسل ندی میں پانی کی سطح کی نگرانی کر رہے ہیں اور سُستا بند (تٹ بندھ) اور پل کی سکیورٹی کو لے کر ہائی الرٹ پر ہیں۔


"پانی کچھ کم ہونے پر لوگ پل سے ندی میں بہہ کر آ رہے سامان کو دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران نظر تیز دھارے میں بہتی دو لاشوں پر پڑی۔ لاشوں کو دیکھ کر وہاں موجود لوگوں میں دہشت پھیل گئی اور لوگ فوراً پل سے واپس لوٹنے لگے۔":— اودھیش، سکنہ جھولنی پور، نیپال
روزی روٹی کا بحران
سیاحوں کے نہ آنے سے علاقے کے لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ اس سانحے کا مقامی کاروبار پر بھی زبردست اثر پڑا ہے۔ پل کے آس پاس چائے، ناشتے اور کھانے پینے کی دکانیں چلانے والے دکانداروں کی فروخت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ دونوں ممالک کے سیاحوں سے گلزار رہنے والا یہ علاقہ اب بالکل ویران نظر آ رہا ہے۔


نیپالی پہچان اور لائف لائن
نارائنی ندی پر بنا یہ سُستا جھولا پل نیپال کے سب سے طویل جھولا پلوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر سے پہلے سُستا کے رہائشیوں کو مرکزی نیپال آنے کے لیے یا تو بھارتی علاقے (بہار) سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا یا پھر خطرات سے بھرپور کشتی کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہ پل وہاں کے بچوں کی تعلیم اور صحت کی سہولیات کے لیے ایک لائف لائن (زندگی کی لکیر) ہے۔


خوف کا سایہ
نارائنی ندی میں طغیانی کے باعث 3 کلومیٹر طویل (جس کا اصل پھیلاؤ تقریباً 1,571 میٹر ہے) اس مشہور جھولا پل پر انتظامیہ نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر آمد و رفت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ندی کے خوفناک روپ کے بیچ پل پر مکمل طور پر سناٹا پسرا ہوا ہے۔ انتظامیہ نے خطرے کو دیکھتے ہوئے سینکڑوں دیہاتیوں کو گاؤں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا؛ پانی کی سطح کم ہونے پر کچھ لوگ واپس لوٹے ہیں، لیکن دوبارہ بارش ہونے اور پانی بڑھنے کے خدشے نے ان کی چنتا (فکر) کو پھر سے بڑھا دیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ
نیپال میں اچانک آنے والے ہولناک سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 800 سے زیادہ ہو گئی ہے اور تقریباً 2,500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ہمالیائی علاقے میں تلاش اور بچاؤ مہم (ریسکیو آپریشن) کا آج چھٹا دن ہے۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) نے ہلاکتوں کی تعداد 800 کے قریب بتائی ہے۔ تاہم، اس تعداد میں ابھی مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گاؤں اور گھر بھاری کیچڑ میں دبے ہوئے ہیں، پل ٹوٹ چکے ہیں اور ندی کے کناروں پر ملبہ بکھرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ خراب موسم کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے روکی گئی تلاش اور بچاؤ کی مہم دوبارہ شروع کر دی گئی ہے اور لاپتہ لوگوں کا پتہ لگانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

نیپالی پلانٹ کو نقصان
نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے ہائیڈرو پروجیکٹس اور سولر پلانٹس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نواکوٹ میں تریشولی ندی کے کنارے واقع ایک سولر پلانٹ کا بڑا حصہ ملبے میں دب کر تباہ ہو گیا ہے۔

مدد کے لیے بڑھے ہاتھ
اس قدرتی آفت کے دوران بھارت کی جانب سے پڑوسی ملک کو ہر ممکن امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ نیپال میں بھارت کے سفیر نویں شریواستو نے بتایا کہ بھارت سے چوتھی پرواز کاٹھمنڈو پہنچی، جس میں 11 ٹن امدادی سامان—جیسے کمبل، سلیپنگ بیگز، ترپال، پلاسٹک شیٹس اور ہائیجین کٹس (حفظانِ صحت کا سامان) شامل تھا۔ اس پرواز میں سرنگوں (ٹنز) کے اندر تلاش اور بچاؤ مہم کے لیے آلات کے ساتھ ایک اضافی تکنیکی ٹیم بھی آئی ہے۔ دوسری طرف، سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی امدادی سامان نیپال پہنچایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں، پنجاب سے امدادی سامان لے کر جانے والی ایک گاڑی کو سونولی بارڈر پر روک دیا گیا۔ پختہ دستاویزات (ضروری کاغذات) نہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان سے لدی گاڑی کو نیپال کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

آفتیں صرف جغرافیائی سرحدیں ہی نہیں بدلتیں
قدرت کا یہ قہر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آفتیں صرف جغرافیائی سرحدیں ہی نہیں بدلتیں، بلکہ ہنستے کھیلتے علاقوں کو پل بھر میں اجاڑ دیتی ہیں۔ امید ہے کہ انتظامیہ کی چستی اور امدادی ایجنسیوں کی تندہی سے جلد ہی سُستا اور نارائنی ندی کے کنارے آباد دیہاتوں میں زندگی پٹری پر لوٹ آئے گی اور اس خوبصورت سُستا جھولا پل کی رونق پھر سے بحال ہوگی۔

