جنترمنتر سے مشہور ہوئے محمد جنید رانچی پہنچ گئے، کہا طلبہ تحریک کہیں بھی چلے، میری حمایت رہے گی
محمد جنید جمعرات کو رانچی پہنچے۔ انہوں نے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم پہنچ کر طلبہ کی تحریک کی حمایت کی۔ چندن بھٹاچاریہ کی رپورٹ۔

Published : August 6, 2026 at 12:14 PM IST
رانچی: دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے خلاف تحریک کے دوران دھرنے پر بیٹھے طلبہ کے لیے مفت بریانی اور ضروری سہولیات کا انتظام کر کے سرخیوں میں آنے والے محمد جنید عرف 'جنید بھائی' جمعرات کو جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی پہنچ گئے۔ انہوں نے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم پہنچ کر جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ دھرنے کی جگہ پہنچتے ہی طلبہ نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے احتجاجی طلبہ سے بات چیت کر کے ان کے مطالبات اور تحریک کی صورت حال کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے جنید نے کہا کہ ملک میں جہاں بھی طلبہ اپنے حقوق اور تعلیم سے متعلق مسائل کو لے کر جمہوری طریقے سے تحریک چلائیں گے، وہ ان کی حمایت کے لیے وہاں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی آواز کو مضبوط کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ جنید کا کہنا ہے کہ "میں یہاں کسی حکومت کے حق یا مخالفت میں بولنے نہیں آیا ہوں۔ میں صرف طلبہ کے مسائل پر بات کرنے آیا ہوں۔ طلبہ اپنے مطالبات کو لے کر تحریک چلا رہے ہیں اور میری حمایت ان کے ساتھ ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ انہیں دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والی تحریک کے بعد پہچاننے لگے ہیں، لیکن طلبہ کی تحریکوں سے ان کا تعلق نیا نہیں ہے۔ "میرا یہ سفر اچانک جنتر منتر سے شروع نہیں ہوا۔ میں طویل عرصے سے کالج کی سطح پر طلبہ کے مختلف مسائل اور تعلیم سے جڑے معاملات کو لے کر جدوجہد کر رہا ہوں۔ جنتر منتر پر میرا وائرل ہونا محض ایک اتفاق تھا، لیکن طلبہ کے مفاد میں کام کرنا میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔"
جنید نے کہا کہ تعلیم اور مسابقتی امتحانات سے جڑے معاملات میں شفافیت اور غیر جانبداری انتہائی ضروری ہے۔ اگر کسی ریاست میں طلبہ اپنے مطالبات کو لے کر پُرامن تحریک چلا رہے ہیں تو معاشرے کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو سننا اور ان کا حل نکالنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنتر منتر دھرنے سے لے کر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ تک: ایک ٹائم لائن
میڈیا کی جانب سے دہلی تحریک کے دوران ان کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعات اور ہراسانی سے متعلق سوالات پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ وہ اس پلیٹ فارم سے ان موضوعات پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں سے کہا کہ "حکومت کیا کر رہی ہے اور میرے ساتھ کیا ہوا، اس پر میں یہاں بات نہیں کروں گا۔ میں صرف طلبہ کے مسئلے پر بات کرنے آیا ہوں۔"
تاہم انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے انہیں ذاتی سطح پر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے ہراساں کیا جا رہا ہے، لیکن اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حکومت کسی کی بھی ہو، میں طلبہ کے مفاد سے جڑے مسائل اٹھاتا رہوں گا اور طلبہ کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔"
جنید کے رانچی پہنچنے سے احتجاجی طلبہ میں زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ احتجاج میں شامل کئی طلبہ نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے ملنے والی حمایت ان کے حوصلے کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ وہیں، تحریک کے دوران جنید کی موجودگی کو طلبہ کے اتحاد اور قومی سطح پر ملنے والی حمایت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
ابھیجیت دیپکے جھارکھنڈ میں طلبہ تحریک کی کریں گے حمایت! پرشانت کشور کے حوالے سے اہم بیان دیا
کیا جنتر منتر احتجاج کے لیے بند کر دیا گیا؟ دہلی پولیس نے کہا، افواہوں پر دھیان نہ دیں

