ETV Bharat / bharat

کانگریس کی مودی کے اسرائیل دورے پر شدید تنقید، اسے ’’شرمناک‘‘ اور ’’غلط وقت‘‘ قرار دے دیا

جے رام رمیش نے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی نے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرکے اعزاز حاصل کیا۔

کانگریس کی مودی کے اسرائیل دورے پر شدید تنقید، اسے ’’شرمناک‘‘ اور ’’غلط وقت‘‘ قرار دے دیا
کانگریس کی مودی کے اسرائیل دورے پر شدید تنقید، اسے ’’شرمناک‘‘ اور ’’غلط وقت‘‘ قرار دے دیا (ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 28, 2026 at 5:59 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: حزبِ اختلاف کانگریس نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل کو ’’شرمناک‘‘ اور ’’غلط وقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بھارت مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کی سیاسی تائید کر رہا ہے، جو ملک کی تاریخی خارجہ پالیسی اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام سے وابستگی کے منافی ہے۔

کانگریس کے شعبۂ خارجہ امور کے چیئرمین سلمان خورشید نے اپنے بیان میں کہا کہ 25 تا 26 فروری ہونے والا یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مغربی ایشیا میں کشیدگی عروج پر ہے اور وسیع پیمانے پر جنگ کا خطرہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس مرحلے پر وزیرِ اعظم کا اسرائیل جانا ’’خاص طور پر نامناسب‘‘ ہے کیونکہ اس سے غیر جانبداری کے بجائے جانبدارانہ ہم آہنگی کا تاثر ملتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران میں ’’بڑی فوجی کارروائیاں‘‘ شروع کر دی ہیں، جبکہ اسرائیل پہلے ہی ایران پر حملے کر چکا ہے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ مودی کا یہ دورہ اقوامِ متحدہ کے منشور، بالخصوص آرٹیکل 2(4) اور 2(3) میں درج ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں سے متصادم نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ (دنیا ایک خاندان ہے)، مہاتما گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد، جواہر لعل نہرو کی عدم وابستگی کی پالیسی اور آئینِ ہند کے آرٹیکل 51 میں درج بین الاقوامی قانون کے احترام پر مبنی رہی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف، کوریائی جنگ کے دوران غیر جانبدارانہ کمیشن کے ذریعے، ایشیا و افریقہ کی نوآبادیاتی تحریکوں کی حمایت اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ایسے اصولی پس منظر میں موجودہ دورہ بھارت کی اخلاقی ساکھ پر سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری برائے مواصلات جے رام رمیش نے بھی سوشل میڈیا پر وزیرِ اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی نے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اسی بنیاد پر اعزاز حاصل کیا، جبکہ چند ہی دن بعد اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کر دی۔ ان کے مطابق یہ دورہ ’’انتہائی شرمناک‘‘ تھا، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنگی ماحول پیدا ہو چکا تھا۔

خورشید نے مزید کہا کہ قومی انتخابات سے قبل کسی برسرِ اقتدار حکومت کے ساتھ اس نوعیت کی قربت کا تاثر دینا بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے 2019 کے ’’ہاؤڈی مودی‘‘ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کو بھی ریاستی سفارت کاری اور انتخابی سیاست کے امتزاج کے طور پر دیکھا گیا تھا، جس سے سفارتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اہم ہیں، لیکن اسی طرح ایران، فلسطین اور وسیع تر مغربی ایشیا کے ساتھ بھی بھارت کے تہذیبی، اقتصادی، توانائی اور جغرافیائی مفادات وابستہ ہیں۔ لہٰذا خارجہ پالیسی کو توازن، احتیاط اور قومی مفاد کے اصولوں کے تحت چلایا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: عرب ممالک اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں سے شدید ناراض، کیا جوابی حملہ کریں گے؟ جانیں کس نے کیا کہا

وزیرِ اعظم مودی اپنے دو روزہ دورے کے دوران اسرائیل کے وزیرِ اعظم نتین یاہو سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے اپنے ’’وقت آزمودہ تعلقات‘‘ کو خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے اور طویل عرصے سے زیرِ التوا آزاد تجارتی معاہدے کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ مودی نے غزہ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کو کبھی بھی تنازعات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام بھارت کے سکیورٹی مفادات سے براہِ راست جڑا ہوا ہے اور نئی دہلی ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔