وزیر اعظم مودی کے دورہ اسرائیل پر کانگریس کی تنقید، فلسطینی مؤقف سے دستبرداری کا الزام
مودی 25 فروری کو دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچیں گے، اس دوران وہ وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔

Published : February 24, 2026 at 1:34 PM IST
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے متوقع دورۂ اسرائیل کے حوالے سے کانگریس نے مرکزی حکومت پر فلسطینیوں کے مؤقف کو “ترک” کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم ایسے وقت میں اسرائیل جا رہے ہیں جب غزہ میں عام شہریوں پر حملے بدستور “بے رحمی” سے جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت فلسطینی کاز کے لیے اپنی وابستگی کے بارے میں بظاہر بیانات دیتی ہے، مگر حقیقت میں اس نے فلسطینیوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ہزاروں فلسطینیوں کی بے دخلی اور نقل مکانی میں شدت آئی ہے جس پر عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور امریکہ ایران پر فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم، اسرائیل میں اپنے “قریبی دوست” نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، جو سنگین بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ رمیش کے مطابق اسرائیل میں اپوزیشن جماعتیں بھی مودی کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بائیکاٹ کی دھمکی دے رہی ہیں، یہ احتجاج نیتن یاہو کی جانب سے عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے یاد دلایا کہ بھارت 18 نومبر 1988 کو فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا، مگر موجودہ حکومت اس تاریخی مؤقف کو نظر انداز کر رہی ہے۔ دوسری جانب، وزیر اعظم مودی 25 فروری کو دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے علاوہ صدر اسحاک ہیرزوک سے ملاقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 'بھارت اسرائیل کے ساتھ دوستی کی بہت قدر کرتا ہے'، اسرائیل دورے سے قبل پی ایم مودی کا بیان
مودی کے اس دورے پر اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی بحث جاری ہے، جہاں اپوزیشن نے پروٹوکول کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مدعو نہ کیے جانے کی صورت میں پارلیمانی خطاب کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔

