مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: بھارتی حکومت کا ہنگامی اجلاس، 11 ممالک کی فضائی حدود سے گریز کی ہدایت
مرکزی وزیرِ شہری ہوابازی کے رام موہن نائیڈو نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

Published : February 28, 2026 at 10:35 PM IST
نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر بھارتی حکومت نے ہفتے کے روز ہوابازی کے شعبے سے وابستہ اداروں کی تیاریوں کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیا اور ایئرلائنز کو ہدایت کی کہ وہ حفاظتی ضوابط کے مطابق ضرورت پڑنے پر پروازوں کا بروقت رخ موڑنے اور متبادل راستوں کا انتظام یقینی بنائیں۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس کے باعث ہزاروں مسافر سفری مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں اور بھارتی ایئرلائنز نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
مرکزی وزیرِ شہری ہوابازی کے رام موہن نائیڈو نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مسافروں کی حفاظت، آپریشنل تسلسل اور بند فضائی حدود کے تناظر ضروری انتظامات کرنے پر زور دیا گیا۔
وزارت نے ایئرلائنز کو ہدایت کی کہ وہ بین الاقوامی حفاظتی اصولوں کے مطابق پروازوں کے راستوں میں فوری تبدیلی اور متبادل لینڈنگ کے انتظامات کریں۔ اس کے ساتھ ہی ہوائی اڈوں کے منتظمین کو مسافروں کی سہولیات اور عملے کے قیام و طعام سے متعلق انتظامات بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
دوسری جانب بھارتی فضائی نگرانی کے ادارے ڈائرکٹوریٹ جنرل آف سیول ایویشن (ڈی جی سی اے) نے ایئرلائنز کو 2 مارچ 2026 تک 11 ممالک کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان ممالک میں کویت، عراق، عمان، بحرین، سعودی عربیہ، لبنان، اسرائیل، ایران و دیگر ممالک شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل پر ایران، لبنان اور یمن سے چوطرفہ جوابی حملے، قطر، بحرین، کویت اور یو اے ای پر بھی داغے میزائل
ڈی جی سی اے نے ایئرلائنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ 11 ممالک کی فضائی حدود میں ہر سطح اور ہر بلندی پر پرواز کرنے سے گریز کریں اور متعلقہ ممالک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ایروناٹیکل انفارمیشن پبلیکیشنز اور نوٹس ٹو ایئر مین پر کڑی نظر رکھیں۔ ادارے کے مطابق یہ ہدایت فوری طور پر نافذ العمل ہے اور 2 مارچ 2026 تک مؤثر رہے گی۔

