مارگادرشی کی ایم ڈی شیلجا کرن کو باوقار پروفیسر جے فلپ ویمن لیڈرشپ ایوارڈ
شیلجا کرن نے کہاکہ طلبا کل کے قائدین بنیں گے، اس لیے تعلیمی اداروں پر انکی شخصیت کو نکھارنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

Published : August 29, 2026 at 8:49 PM IST
بنگلور : مارگادرشی چٹ فنڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر شیلجا کرن کو پیشہ ورانہ میدان میں نمایاں خدمات اور کامیابیوں کے اعتراف میں پروفیسر جے فلپ ویمن لیڈرشپ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں ہفتہ کے روز بنگلورو میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش کیا گیا۔ یہ تقریب ایسوسی ایشن آف انڈین مینجمنٹ اسکولز (اے آئی ایم ایس) کے 37ویں یوم تاسیس کے موقع پر XIME بنگلور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا موضوع "مستقبل کی مینجمنٹ ایجوکیشن کے لیے بصیرت افروز قیادت کا کردار" تھا، جس میں تعلیمی ماہرین، صنعت سے وابستہ نمائندوں اور طلبہ نے شرکت کی۔
اعزاز حاصل کرنے کے بعد شیلجا کرن نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ ایوارڈ اپنے ساتھیوں، ملازمین اور اہل خانہ کے نام کرتی ہیں، کیونکہ ہر کامیابی اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا تعلق پروفیسر جے فلپ کے نام سے ہے، جو ایسے تعلیمی اداروں کے حامی تھے جو صلاحیت، کردار اور انسانیت سے بھرپور قیادت پیدا کریں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیلجا کرن نے کہا کہ موجودہ دور میں مینجمنٹ کی تعلیم کو روایتی کلاس رومز اور نصابی کتابوں تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی دنیا کو تیزی سے تبدیل کررہی ہیں، اس لیے تعلیمی اداروں کو طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے اپنی سابقہ کامیابیوں پر ہمیشہ انحصار نہیں کرسکتے بلکہ انہیں عالمی سطح پر بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق مسلسل خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ شیلجا کرن نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانوں کو بااختیار بنانا ہونا چاہیے، انہیں بے دخل کرنا نہیں۔ مینجمنٹ کے اداروں کو ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ ہمدردی، دیانت داری اور ذمہ داری جیسی انسانی اقدار کو بھی مضبوط بنانا چاہیے۔ اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے شیلجا کرن نے بتایا کہ صرف 30 سال کی عمر میں انہیں ایسی کمپنی کی منیجنگ ڈائریکٹر بننے کا موقع ملا جس کی 12 شاخیں اور تقریباً 100 کروڑ روپے کا کاروباری حجم تھا۔
شیلجا کرن نے کہا کہ تخیل اور دور اندیشی قائدین کو وہاں ترقی کے مواقع دیکھنے میں مدد دیتی ہے جہاں دوسرے لوگ صرف مشکلات اور حدود دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مینجمنٹ کی تعلیم کا اصل مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہونا چاہیے جو اخلاقی فیصلے کرنے والے، اختراعی سوچ رکھنے والے، مسائل حل کرنے والے، کاروباری صلاحیتوں سے مالا مال اور ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنے والے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے طلبا ہی کل کے قائدین بنیں گے، اس لیے تعلیمی اداروں پر ان کی شخصیت اور کردار کی تشکیل کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شیلجا کرن نے کہا کہ بصیرت افروز قیادت صرف کسی عہدے پر فائز ہونے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے نئے امکانات کو پہچاننے، رائج طریقوں پر سوال اٹھانے اور مستقبل کے چیلنجز کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کا حوصلہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج مصنوعی ذہانت کے ذریعے معلومات تک رسائی انتہائی آسان ہوگئی ہے، اس لیے اساتذہ کی ذمہ داری صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ کو سوچنے، تجزیہ کرنے، سوال اٹھانے، اختراع کرنے اور اخلاقی فیصلے کرنے کا ہنر سکھانا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی آفات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں مزید تحقیق اور ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات پر بھی زور دیا۔
مارگادرشی چٹ فنڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کلاس روم میں حاصل ہونے والی تعلیم اور صنعت کی عملی ضروریات کے درمیان موجود فرق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ طلبہ کے لیے انٹرن شپ، عملی منصوبوں اور صنعت سے وابستہ رہنمائی کے مواقع میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے ہندوستان کی اسٹارٹ اپ تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں نے ثابت کیا ہے کہ معمولی نظر آنے والے خیالات کو بھی کامیاب کاروبار اور وسیع تر سماجی فائدے کے حامل منصوبوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے نوجوان اختراع کاروں اومکار سنگھ بترا، سیم سانگی اور ادویت ٹھاکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری میدان میں کامیابی کے لیے حوصلہ، ثابت قدمی اور تخلیقی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ونیشا امیشانکر کی مثال بھی پیش کی، جنہوں نے کوئلے سے چلنے والی استری کے باعث دھوبیوں کو درپیش صحت کے مسائل کا مشاہدہ کرنے کے بعد شمسی توانائی سے چلنے والی موبائل استری گاڑی تیار کی۔
شیلجا کرن نے کہا کہ جب طلبا کو مشاہدہ کرنے، سوال اٹھانے اور نئے حل تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو بظاہر چھوٹے مسائل بھی بڑے اور پائیدار کاروباری حل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اخلاقی قیادت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شیلجا کرن نے کہا کہ اخلاقیات کے بغیر حاصل کی گئی کامیابی زیادہ دیرپا نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق دیانت داری سے اعتماد پیدا ہوتا ہے، اعتماد سے مضبوط تعلقات بنتے ہیں اور مضبوط تعلقات ہی اداروں اور قوموں کی تعمیر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیادت کا معیار اس بات سے نہیں ناپا جانا چاہیے کہ کتنے لوگ کسی قائد کے ماتحت کام کرتے ہیں، بلکہ اس بات سے دیکھا جانا چاہیے کہ کتنے لوگ اس قائد کی وجہ سے ترقی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عظیم قائدین صرف پیروکار پیدا نہیں کرتے بلکہ مزید قائدین تیار کرتے ہیں۔ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے شیلجا کرن نے انہیں بے خوف ہوکر خواب دیکھنے، ایمانداری سے محنت کرنے، مسلسل سیکھتے رہنے اور اپنے والدین و اساتذہ کا احترام کرنے کی تلقین کی۔
تقریب میں نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے اے سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ناگیشور راؤ اور چندرا گروپ و جی آر جی ٹرسٹ کی منیجنگ ڈائریکٹر اور بانی ٹرسٹی، نیز سی آئی آئی گلوبل لیڈرشپ کونسل اور سی آئی آئی ہائر ایجوکیشن کونسل کی شریک چیئرپرسن نندنی رنگاسوامی بھی موجود تھیں۔

