لوک سبھا میں اپوزیشن کے شدید ہنگامہ کے بیچ منریگا کی جگہ وی بی۔جی رام جی بل منظور
بل، ہنگامہ کے درمیان منظور کیاگیا، حکومت نے اسے اصلاحات کا نام دیا اور اپوزیشن نے مزدوروں کے حق کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

Published : December 18, 2025 at 3:36 PM IST
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران جمعرات کو وِکست بھارت–گارنٹی برائے روزگار و اجیویکا مشن (گرامین) بل 2025 یعنی وی بی۔جی رام جی بل کی منظوری کے بعد شدید سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ یہ بل مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ لانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
بل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں احتجاجی مارچ نکالا۔ گاندھی مجسمے (پررنا استھل) سے مکر دوار تک نکالے گئے اس مارچ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، کے سی وینوگوپال، کنہی موزی، اے راجہ، اروند ساونت اور دیگر اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔
کھڑگے نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ “مودی حکومت نے نہ صرف بابائے قوم مہاتما گاندھی کی توہین کی ہے بلکہ دیہی غریبوں کے حقِ روزگار کو بھی کچل دیا ہے۔ ہم اس آمرانہ رویہ کے خلاف پارلیمنٹ سے سڑکوں تک جدوجہد کریں گے۔”
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا نے خبردار کیا کہ ریاستوں پر مالی بوجھ ڈال کر اس اسکیم کو بتدریج ختم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، “100 دن سے 125 دن کا اضافہ محض ایک چال ہے، آخرکار یہ اسکیم غریبوں کے خلاف ثابت ہوگی۔”
مرکزی وزیر دیہی ترقی و زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مہاتما گاندھی کے نظریات پر قائم ہے اور پردھان منتری آواس یوجنا، جل جیون مشن، سوچھ بھارت، اجولا اور آیوشمان بھارت جیسی اسکیموں کے ذریعہ انہی اصولوں کو عملی شکل دے رہی ہے۔ ان کے مطابق نیا قانون اثاثہ سازی، بہتر منصوبہ بندی، ڈیجیٹل نگرانی اور جوابدہی کو مضبوط بناتا ہے۔
بل کی اہم دفعات
ہر دیہی خاندان کو سالانہ 125 دن اجرتی روزگار کی قانونی ضمانت
15 دن کے اندر کام نہ ملنے پر بیروزگاری الاؤنس
60:40 مرکز-ریاست لاگت، جبکہ شمال مشرقی اور پہاڑی ریاستوں کے لیے 90:10
بائیومیٹرک حاضری، جی پی ایس مانیٹرنگ، ریئل ٹائم ڈیش بورڈ اور اے آئی نگرانی
گرام سبھاؤں کے ذریعے چھ ماہ میں ایک بار سماجی آڈٹ
یہ بھی پڑھیں: منریگا نام بدلنے کا تنازعہ: گیارہ سالوں میں، مودی حکومت نے کانگریس کی حمایت یافتہ تیس سے زیادہ اسکیموں کا نام کیا تبدیل
اپوزیشن نے بل کو “مہاتما گاندھی کے نام اور غریبوں کے حقِ روزگار کا خاتمہ” قرار دیتے ہوئے ملک گیر تحریک کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت اسے دیہی ترقی کا نیا ماڈل بتا رہی ہے۔

