اگسٹا ویسٹ لینڈ کیس: دولت قانون کو چیلنج کرنے کا حق نہیں دیتی، پی ایم ایل اے کیس میں سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ
سپریم کورٹ نے آگسٹا ویسٹ لینڈ سے متعلق مقدمہ میں منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے وکیل کی عرضی کو مسترد کر دیا۔

Published : January 6, 2026 at 4:45 PM IST
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز واضح الفاظ میں کہا کہ صرف دولت مند ہونا کسی شخص کو قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کا خصوصی حق نہیں دیتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے آگسٹا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودے سے جڑے منی لانڈرنگ کیس میں ملزم وکیل گوتم کھیتان کی اس درخواست کو سننے سے انکار کر دیا، جس میں انہوں نے پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کی ایک شق کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، “یہ ایک نیا رجحان بن گیا ہے کہ جب ٹرائل جاری ہے تو امیر اور بااثر ملزمان اس عدالت کا رخ کرکے قانون کی شقوں کو چیلنج کرنے لگتے ہیں۔ اگر آپ ملزم ہیں تو عام شہری کی طرح ٹرائل کا سامنا کریں۔” عدالت نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ کوئی شخص صاحبِ حیثیت ہے، وہ قانون کی درستگی پر سوال نہیں اٹھا سکتا اور اس طرح کی روایت کو روکا جانا ضروری ہے۔
گوتم کھیتان کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ لتھرا نے دلیل دی کہ پی ایم ایل اے کی دفعہ 44 کی آئینی حیثیت ایک اہم سوال ہے، جس پر عدالت کو غور کرنا چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ پی ایم ایل اے کی مختلف دفعات پہلے ہی وجے مدن لال کیس سے جڑی نظرثانی درخواستوں میں زیرِ غور ہیں، اس لیے علیحدہ رِٹ پٹیشن سننے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگسٹا ویسٹ لینڈ کیس: تمام ملزم آج عدالت میں پیش ہوں گے
عدالت نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانونی سوالات ان جاری نظرثانی درخواستوں میں دیکھے جائیں گے، البتہ درخواست گزار کو وہاں مداخلت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ دفعہ 44 کے تحت اگر کسی عدالت میں کسی “شیڈیولڈ جرم” کا نوٹس لیا جائے تو وہ مقدمہ متعلقہ پی ایم ایل اے اسپیشل کورٹ کو منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ ایک ہی عدالت منی لانڈرنگ اور بنیادی جرم دونوں کی سماعت کرے اور عدالتی تضاد سے بچا جا سکے۔

