جماعت اسلامی ہند نے کی ایران پر امریکی اسرائیل حملے کی شدید مذمت، کہی یہ بڑی بات
جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے ہندوستان پر زور دیا کہ وہ اپنا روایتی عدم اتحاد اور اصولی موقف برقرار رکھے۔


Published : March 1, 2026 at 7:38 AM IST
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ "ہم ایران پر امریکہ اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس حملے سے نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرہ ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں اور معاش پر بھی سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ فوجی تصادم کا راستہ کبھی بھی پائیدار امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ اس اقدام سے مغربی ایشیا میں خوف و ہراس پھیلے گا۔ اعمال."
بین الاقوامی تنازعات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی اپیل
جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر نے کہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی تنازعات کو بات چیت، بات چیت کے ذریعے اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے۔ اس لیے ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔" جماعت کی قیادت نے کہا کہ مغربی ایشیا پہلے ہی متعدد جنگوں اور تنازعات کا شکار ہو چکا ہے۔
ایک نیا فوجی تصادم صورتحال کو مزید گھمبیر کر سکتا ہے
پچھلی دہائیوں کے دوران خطے میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی، معاشی زوال اور طویل عدم استحکام ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں کوئی بھی نیا فوجی تنازع صورتحال کو مزید گھمبیر کر سکتا ہے جس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ کئی پڑوسی ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔
شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے
تنظیم نے تہران اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ جماعت اسلامی ہند نے اپنے بیان میں بھارتی حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنا روایتی غیروابستہ اور اصولی موقف برقرار رکھے۔
تحمل، جنگ بندی، اور بین الاقوامی قانون کی وکالت کرنا
تنظیم نے کہا کہ ہندوستان کو عالمی پلیٹ فارمز پر تحمل، جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی وکالت کرنی چاہیے۔ اس نے مسلم ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس بحران کو بڑے علاقائی تنازعے میں بدلنے سے روکنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔
فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل
مجموعی طور پر جماعت اسلامی ہند کی اعلیٰ قیادت نے ایران پر مبینہ مشترکہ حملے کے حوالے سے واضح اور مضبوط موقف اپنایا ہے۔ تنظیم نے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل، تحمل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کیا ٹھوس اقدامات کیے جاتے ہیں۔

