پاکستانی جیل میں بند بیٹے کو واپس لانے کیلئے ماں باپ کی فریاد، ڈی ایم کے دفتر میں پھوٹ پھوٹ کر روئے
کرپال سنگھ نے جذباتی ہو کر کہا کہ ان کا خاندان مزدوری کرتا ہے اور ان کی مالی حالت بہت خراب ہے۔

Published : January 6, 2026 at 9:24 AM IST
علی گڑھ: پاکستان کی جیل میں بند یوپی کے علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے نوجوان بادل بابو کو گھر واپس لانے کی فریاد لے کر اس کے گھر والے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر پہنچے۔ اہل خانہ نے ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کی اور وزیر اعظم کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر میں والدین نے آنسو روتے ہوئے حکومت سے مدد کی فریاد کی۔
بادل کے والد کرپال سنگھ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی سزا پوری ہو چکی ہے۔ جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے وہ بھارت واپس نہیں آسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو لے کر ضلع مجسٹریٹ کے پاس پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے کہ جرمانہ کیسے اور کس پروسس کے ذریعے ادا کیا جائے گا۔
پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ماں باپ
کرپال سنگھ نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان مزدوری کرتا ہے اور ان کی مالی حالت انتہائی کمزور ہے۔ جرمانے کے طور پر 5000 روپے کی رقم ادا کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہم غریب لوگ ہیں۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں، لیکن ہم اپنے بیٹے کے لیے کہیں سے انتظام کریں گے۔ آخر وہ ہمارا بیٹا ہے، ہم نے اسے پالا پوسا ہے۔ کون سا باپ اپنے بیٹے کو اس طرح چھوڑ سکتا ہے؟
تبدیلی مذہب کی جانکاری نہیں
خاندان نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کی پختہ جانکاری نہیں ہے کہ پاکستانی جیل میں بادل بابو نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ انہیں اس بارے میں صرف میڈیا اور بیرونی ذرائع سے معلوم ہوا۔ خاندان کو کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی ہے۔
حالانکہ یہ ضرور بتایا گیا کہ پاکستانی لڑکی ثنا رانی کی محبت میں مبتلا ہونے کے بعد بادل بابو بھارت واپس آنے کے لیے تیار نہیں ہے جو کہ خاندان کے لیے باعث تشویش ہے۔
حکومت سے مدد کی اپیل
والد کرپال سنگھ نے بتایا کہ وکیل فیاض رامے نے ان کے بیٹے کے کیس میں بہت مدد کی ہیں اور مسلسل قانونی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اہل خانہ نے بتایا کہ وہ اپنی پریشانیوں سے نہ صرف ضلع انتظامیہ بلکہ مرکزی حکومت تک اپنی بات پہنچا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر اعظم اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کو بھی خط بھیجے گئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے بیٹے کو واپس لانے اور جرمانے کی رقم ادا کرنے میں مدد کرے۔ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے افسران نے گھر والوں کے خدشات کو سنا اور میمورنڈم کو قبول کیا۔
مزید پڑھیں:
بھارت اور پاکستان کے درمیان قیدیوں، ماہی گیروں اور جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد پر پاکستان کا بیان، وزارت خارجہ نے مسترد کر دیا

