ETV Bharat / bharat

بھارت–امریکہ تعلقات ہنگامہ خیز دور میں داخل، روسی تیل پر پابندیوں سے نیا بحران: کانگریس

ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مشکل وقت سے گزر رہے ہیں کیونکہ ٹرمپ نے 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی حمایت کردی۔

بھارت–امریکہ تعلقات ہنگامہ خیز دور میں داخل، روسی تیل پر پابندیوں سے نیا بحران: کانگریس
بھارت–امریکہ تعلقات ہنگامہ خیز دور میں داخل، روسی تیل پر پابندیوں سے نیا بحران: کانگریس (Congress MP Jairam Ramesh | File photo (ANI))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 8, 2026 at 7:29 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: کانگریس نے جمعرات کو کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات اس وقت ’’انتہائی ہنگامہ خیز‘‘ مرحلے سے گزر رہے ہیں اور ہر نیا دن ایک تازہ چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے پابندیوں کے بل کی حمایت کی ہے، جس کے تحت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے مفاہمانہ بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کے باوجود بھارت–امریکہ تعلقات میں ایک ’’نیا غیر معمولی‘‘ رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم، جو صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی ہیں، ایک ایسا بل آگے بڑھا رہے ہیں جس سے روس کے ساتھ تجارت اور دیگر تعلقات کے سبب بھارت پر سخت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

جے رام رمیش نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ اس سے قبل سینیٹر برنی مورینو نے بھی ایک بل پیش کیا تھا، جس میں امریکی کمپنیوں پر آؤٹ سورسنگ ادائیگیوں پر 25 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات بھارت کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ بھارت کی بے چینی میں اس وقت اور اضافہ ہو جاتا ہے جب صدر ٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مسلسل تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’دو طرفہ تعلقات میں بلا شبہ ایک نیا غیر معمولی پن پیدا ہو گیا ہے، اور وزیر اعظم کی مفاہمانہ کوششوں کے باوجود ہر دن ایک نیا امتحان بن کر سامنے آ رہا ہے۔‘‘

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے اس پابندیوں کے بل کی حمایت کی ہے جس کے ذریعے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کو چین اور بھارت جیسے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ وہ ماسکو سے سستا تیل خریدنا بند کریں۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک مفید ملاقات کے بعد اس دو جماعتی روس مخالف پابندیوں کے بل کو گرین سگنل مل گیا ہے، جسے وہ سینیٹر بلومن تھال اور دیگر اراکین کے ساتھ مل کر تیار کر رہے ہیں۔ گراہم کے مطابق یہ بل صدر ٹرمپ کو ان ممالک کو سزا دینے کا اختیار دے گا جو روسی تیل خرید کر یوکرین کے خلاف جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت پر 500 فیصد ٹیرف کا خطرہ! ٹرمپ انتظامیہ نے بل کو ہری جھنڈی دکھا دی

انہوں نے کہا کہ وہ اس بل پر جلد از جلد مضبوط دو جماعتی حمایت کے ساتھ ووٹنگ کی امید رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے ہی بھارت پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر چکا ہے، جن میں روسی توانائی کی خریداری پر 25 فیصد محصول بھی شامل ہے۔ سینیٹر گراہم نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی سفیر ونئے کواترا نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری میں کمی کر رہا ہے اور صدر ٹرمپ سے ٹیرف میں نرمی کی درخواست کی ہے۔