ETV Bharat / bharat

ایس آئی آر پر انڈیا اتحاد سپریم کورٹ سے رجوع: الیکشن کمیشن پر جانبداری، انتخابی نتائج میں مداخلت اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے الزامات

خط میں عدلیہ سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ جمہوری اداروں کے تحفظ اور انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے مداخلت کرے۔

ایس آئی آر پر انڈیا اتحاد سپریم کورٹ سے رجوع: الیکشن کمیشن پر جانبداری، انتخابی نتائج میں مداخلت اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے الزامات
ایس آئی آر پر انڈیا اتحاد سپریم کورٹ سے رجوع: الیکشن کمیشن پر جانبداری، انتخابی نتائج میں مداخلت اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے الزامات (Representational Image (ANI))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 3, 2026 at 7:48 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے معاملے پر سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی، عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے، راشٹریہ جنتا دل اور دیگر جماعتوں پر مشتمل انڈیا اتحاد نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کے نام ایک مشترکہ خط روانہ کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں انتخابی عمل کو منظم انداز میں متاثر کیا جا رہا ہے اور کئی انتخابات کے نتائج عوامی مینڈیٹ کی حقیقی عکاسی نہیں کرتے۔

کانگریس کی جانب سے جاری اس خط پر دو درجن سے زائد اپوزیشن رہنماؤں کے دستخط ہیں، جن میں کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈی ایم کے، عام آدمی پارٹی، آر جے ڈی اور دیگر جماعتوں کے قائدین شامل ہیں۔ خط میں عدلیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جمہوری اداروں کے تحفظ اور انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے مداخلت کرے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کا اختیار ہمیشہ حکومتِ وقت کے پاس رہا ہے، تاہم 2014 کے بعد ہونے والی تقرریوں نے اس کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ حالیہ برسوں میں ایسے افراد کو الیکشن کمیشن میں تعینات کیا گیا جو حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور جنہوں نے مبینہ طور پر حکمران جماعت کے حق میں کام کیا۔ انڈیا اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں الیکشن کمیشن نے کھلے عام جانبدارانہ رویہ اختیار کیا۔ اپوزیشن کے مطابق انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر حکمران جماعت کے خلاف کارروائی سے گریز کیا گیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بی جے پی رہنماؤں کی مبینہ فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز تقاریر پر الیکشن کمیشن نے متعدد مواقع پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اپوزیشن نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ خط میں کہا گیا کہ اس عمل کا مقصد ووٹر لسٹوں کو شفاف بنانا بتایا گیا، لیکن اس کے نتائج اس کے برعکس سامنے آئے ہیں۔ انڈیا اتحاد نے یاد دلایا کہ بہار اسمبلی انتخابات سے قبل ایس آئی آر مہم کا آغاز بنگلہ دیشی دراندازوں کے نام ووٹر لسٹوں میں شامل ہونے کے دعوے کے ساتھ کیا گیا تھا، لیکن انتخابات کے بعد نہ تو الیکشن کمیشن نے ایسے افراد سے متعلق کوئی اعداد و شمار جاری کیے اور نہ ہی ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش کیا۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات سے چند ماہ قبل اتنے بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹوں کی نظرثانی نہ صرف غیر ضروری تھی بلکہ اس کا نفاذ بھی انتہائی ناقص انداز میں کیا گیا۔ خط میں دعویٰ کیا گیا کہ مغربی بنگال میں کئی بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) بھی اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ اپوزیشن اتحاد نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمز) کے استعمال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابی نظام میں مکمل شفافیت کے لیے بیلٹ پیپر کی واپسی پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

خط میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور این آئی اے پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ ان اداروں کو صرف اپوزیشن جماعتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور بعض مواقع پر منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھی ان کا سہارا لیا گیا۔ انڈیا اتحاد نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ جاری ایس آئی آر مہم کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اس عمل کو ایسے وقت میں انجام دیا جائے جب اگلے اسمبلی انتخابات کم از کم پانچ سال دور ہوں، تاکہ ووٹروں کی گھر گھر جا کر مناسب تصدیق کی جا سکے اور شہریوں کو غیر ضروری دستاویزی پیچیدگیوں سے نہ گزرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں: گجرات اے ٹی ایس کی کارروائی، جیشِ محمد سے مبینہ تعلق رکھنے والے 8 افراد گرفتار

اپوزیشن نے اپنے خط کے اختتام پر کہا کہ جب آئینی ادارے غیر جانبداری کھو دیں تو جمہوریت شدید خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی آخری امید عدلیہ ہوتی ہے، اس لیے سپریم کورٹ کو آئین، جمہوریت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔