عالمی یومِ صحافت آزادی پر ملکارجن کھرگے کا بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت حملہ
کھرگے نے کہاکہ 2014 کے بعد سے بھارت کا عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں درجہ مسلسل نیچے آیا ہے۔ جو اب 157ویں مقام پر ہے۔

Published : May 3, 2026 at 9:00 PM IST
نئی دہلی : کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آزاد صحافت کو دبانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ اپنے بیان میں کھڑگے نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومتی بیانیے کو دہرانے تک محدود ہو چکا ہے، جبکہ وہ صحافی جو سوال اٹھاتے ہیں، انہیں مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد سے بھارت کا عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں درجہ مسلسل نیچے آیا ہے اور اب 157ویں مقام تک پہنچ چکا ہے، جو جمہوری اقدار کے لیے تشویشناک ہے۔ کھڑگے نے مزید کہاکہ “ایک آزاد صحافت کا کام حکومت کی تعریف کرنا یا اس کی ناکامیوں کو چھپانا نہیں بلکہ اقتدار سے سوال کرنا اور اسے جواب دہ بنانا ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی دفعات جیسے ہتک عزت کے قوانین، قومی سلامتی سے متعلق شقیں اور دیگر سخت قوانین کو صحافیوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
On World Press Freedom Day, the nation must confront a stark and undeniable reality. Since 2014, India’s position in the World Press Freedom Index has steadily declined, falling to 157th place, under the BJP regime.
— Mallikarjun Kharge (@kharge) May 3, 2026
A free press, in its truest sense, does not exist to amplify…
کھرگے کے مطابق 2014 سے 2020 کے درمیان 135 سے زائد صحافیوں کو گرفتار، حراست میں لیا گیا یا ان سے تفتیش کی گئی، جبکہ 2014 سے 2023 کے درمیان 36 صحافی جیل بھیجے گئے۔ کانگریس صدر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کچھ صحافیوں کو بدعنوانی اور عوامی مسائل پر رپورٹنگ کرنے کے باعث قتل تک کر دیا گیا، جس سے آزادیٔ اظہار کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے آزاد صحافت ناگزیر ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کرے۔ ان کے مطابق اگر ان اصولوں سے انحراف جاری رہا تو یہ رجحان معمول بن جائے گا اور ملک کے جمہوری ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کل: اقتدار کی جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل
آخر میں انہوں نے زور دیکر کہا کہ ہمیں میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ غور و فکر کرنا چاہئے اور صحافت کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے اقدامات کریں۔

