سپریم کورٹ نے پروفیسر علی خان محمود آباد کے معاملے میں ہریانہ حکومت کو ’’فراخ دلی‘‘ کا مشورہ دیا
کورٹ کو بتایا گیاکہ ٹرائل کورٹ میں چارج شیٹ داخل کرنے کے بعد اگست 2025 سے ریاستی حکومت نے ابھی تک منظوری نہیں دی ہے۔

Published : January 6, 2026 at 6:55 PM IST
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز زبانی مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ ہریانہ حکومت اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف درج فوجداری مقدمے میں ’’ایک بار کی فراخ دلی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے استغاثہ کی منظوری نہ دینے پر غور کر سکتی ہے۔ پروفیسر علی خان محمود آباد آپریشن سندور سے متعلق سوشل میڈیا پر کی گئی دو متنازعہ پوسٹس کے سبب فوجداری جانچ کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ کے روبرو آیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اگست 2025 میں چارج شیٹ داخل ہونے کے باوجود ہریانہ حکومت نے تاحال استغاثہ کی منظوری نہیں دی ہے، جس کے باعث ٹرائل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے ابھی تک منظوری نہیں دی اور ٹرائل عدالت کارروائی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید وقت مانگا تاکہ حکومت سے واضح ہدایات حاصل کی جا سکیں کہ آیا اس معاملے کو ایک بار کی رعایت کے طور پر بند کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اشوکا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر علی خان محمود آباد کو آپریشن سندور تبصرہ کیس میں بڑی راحت
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مجاز اتھارٹی نرم رویہ اختیار کرتی ہے تو معاملہ ختم ہو سکتا ہے اور عدالت کو میرٹ میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ عدالت نے توقع ظاہر کی کہ اس دوران پروفیسر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں گے۔ عدالت نے معاملے کی سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو چارج شیٹ پر نوٹس لینے سے روکنے کا حکم برقرار رکھا۔

