مجھے مار بھی دیں گے تب بھی بنگلہ دیش جاؤں گی، کسی طلبہ تحریک نے مجھے نہیں ہٹایا تھا: شیخ حسینہ
شیخ حسینہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بنگلہ دیش کی شکل میں بھارت کے پڑوس میں ایک اور پاکستان تیار ہو رہا ہے۔

Published : August 6, 2026 at 8:59 AM IST
نئی دہلی: بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے بدھ کے روز دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دسمبر میں وطن واپس لوٹیں گی۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں "جمہوریت اور انصاف کی بحالی" کے لیے گرفتاری یا سزائے موت کا خطرہ مول لینے کا عہد کیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے بھارت کو اپنے ملک کے "عظیم دوست" کے طور پر سراہا۔
پانچ اگست سال 2024 کو بھارت آنے کے بعد میڈیا کے ساتھ اپنی پہلی عوامی گفتگو میں، حسینہ نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میری واپسی اقتدار کے لیے نہیں ہے، بلکہ بنگلہ دیش کو ترقی، سیکولرازم اور خوشحالی کی راہ پر واپس لانے کے لیے ہے۔"
انہوں نے کہا کہ "مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھے جیل میں ڈال سکتے ہیں یا مار سکتے ہیں۔" شیخ حسینہ نے مزید کہا کہ "میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہنے کے لیے گھر واپس جاؤں گی." واضح رہے کہ ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد سے 78 سالہ حسینہ پانچ اگست سال 2024 سے بھارت میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میں بنگلہ دیش جاؤں گی۔"
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں، ڈھاکہ کی ایک اسپیشل ٹربیونل نے حسینہ کو ان کی حکومت کی طرف سے سال 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر کی جانے والی بے رحمانہ کارروائی کے لیے، ان کی غیر موجودگی میں "انسانیت کے خلاف جرائم" کے الزام میں سزائے موت سنا رکھی ہے۔ اسپیشل ٹربیونل فیصلے کے بعد سے، ڈھاکہ نئی دہلی سے شیخ حسینہ کو قانون کا سامنا کرنے کے لیے واپس بھیجنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اس ورچول پریس کانفرنس کے دوران بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم نے ہمیشہ بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے رہنے پر بھارت کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ "بھارت ہمیشہ سے بنگلہ دیش کا بہت اچھا دوست رہا ہے۔" حسینہ نے کہا کہ بنگلہ دیش میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "گھروں، کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول ہے۔ یہ وہ بنگلہ دیش نہیں ہے جسے ہم نے بنایا تھا۔ میں عالمی برادری سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ جمہوریت اور انصاف کے لیے بنگلہ دیش کے لوگوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔"
حسینہ نے الزام لگایا کہ جولائی اور اگست سال 2024 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے، جن کی وجہ سے ان کی حکومت گری، کوئی پرامن طلبہ تحریک نہیں تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منظم گروہوں نے اس تحریک کو ایک پرتشدد سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرنے کا کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ "مجھے اپنے ملک سے دور جانے پر مجبور کیا گیا، لیکن میں اپنے لوگوں سے کبھی الگ نہیں ہوئی۔" حسینہ کے بیٹے ساجب واجد جوائے نے دعویٰ کیا کہ اگست سال 2024 سے بنگلہ دیش میں سیاسی قتل و غارت گری کو قانونی حیثیت مل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بنگلہ دیش ایک ناکام ریاست بن چکا ہے اور وہاں امن و امان نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نئی دہلی کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش بھارت کی مشرقی سرحد پر ایک اور پاکستان بن گیا ہے۔
متعلقہ خبریں:
شیخ حسینہ وطن واپس آئیں تو سیدھے جیل جائیں گی: بنگلہ دیشی وزیر
شیخ حسینہ دسمبر میں بنگلہ دیش میں کریں گی خود سپردگی، بولیں، موت آئے تو اپنی مٹی پر آنی چاہئے
بنگلہ دیش کی مانگ کے باوجود شیخ حسینہ کی حوالگی بے حد مشکل کیوں؟
بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے تعلقات مزید کشیدہ، بھارت نے سفارتی اہلکاروں کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا
بھارتی ہائی کمشنر تریویدی کا بھارت بنگلہ دیش تعلقات کی بحالی اور گنگا معاہدے کی تجدید پر اہم اشارہ

