مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال پر پرینکا چترویدی کی تشویش، خواتین کے تحفظ کے لیے مرکز سے فوری مداخلت کا مطالبہ
پرینکا چترویدی نے AI Grok کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

Published : January 2, 2026 at 3:13 PM IST
نئی دہلی: شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کی رکنِ پارلیمان پرینکا چترویدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مبینہ غلط استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ افراد جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے خواتین کی تصاویر پوسٹ کر کے انہیں اے آئی ٹولز کے ذریعے قابلِ اعتراض اور جنسی انداز میں پیش کر رہے ہیں، جو خواتین کی رازداری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اپنے خط میں پرینکا چترویدی نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر موجود اے آئی فیچر ’گروک‘ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں مرد جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے خواتین کی تصاویر شیئر کر کے ایسے پرامپٹس دے رہے ہیں جن کا مقصد خواتین کے لباس کو کم دکھانا اور انہیں جنسی انداز میں پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ مجرمانہ بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اے آئی ٹولز اس طرح کی درخواستوں پر عمل کر رہے ہیں، جو خواتین کے حقِ رازداری اور ان کی تصاویر کے غیر مجاز استعمال کے مترادف ہے۔ پرینکا چترویدی نے زور دیا کہ ملک خاموش تماشائی نہیں بن سکتا جب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین کی عزتِ نفس کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن ریڈیکلائزیشن کے خلاف سخت کارروائیاں، جدید ڈیٹا بیس اور اے آئی سسٹمز فعال: پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کا بیان
خط میں انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے پلیٹ فارمز پر بھی اسی طرح کے رجحانات سامنے آ رہے ہیں، جن پر کوئی مؤثر نگرانی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اے آئی ٹولز میں ایسے حفاظتی انتظامات نافذ کرے تاکہ خواتین کو آن لائن ہراسانی سے بچایا جا سکے۔

