سی بی ایس ای کی تین زبانوں کی پالیسی سپریم کورٹ میں چیلنج، ہندی اور سنسکرت کو مسلط کرنے کا الزام
عرضی میں کہا گیاکہ بورڈ نے مختلف زبانوں کے اساتذہ کی کمی کا اعتراف کیا ہے، اسکے باوجود اس پالیسی کو نافذ کیا جارہا ہے۔

Published : June 9, 2026 at 2:26 PM IST
نئی دہلی : سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی جانب سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے تین زبانوں کے مطالعے کو لازمی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ پالیسی غیر معقول، امتیازی اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روح کے منافی ہے۔
یہ عرضی ماہر تعلیم اور مہاراشٹر کی سابق وزیر ڈاکٹر فوزیہ خان نے دائر کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ سی بی ایس ای کے 15 مئی کے سرکلر کے تحت یکم جولائی 2026 سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے تین زبانوں کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں کم از کم دو ہندوستانی زبانیں شامل ہوں گی۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ بورڈ خود اپنے سرکلر میں مختلف زبانوں کے اساتذہ کی کمی کا اعتراف کرتا ہے، اس کے باوجود اس پالیسی کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق جنوبی ریاستوں میں اس پالیسی کا عملی نتیجہ ہندی کی لازمی تعلیم جبکہ شمالی ریاستوں میں سنسکرت کے فروغ کی صورت میں نکلے گا، جس کے لیے کوئی واضح تعلیمی جواز پیش نہیں کیا گیا۔
سی بی ایس ای کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020) اور نیشنل کریکولم فریم ورک 2023 کے مطابق کیا گیا ہے۔ بورڈ کے مطابق طلبہ کو غیر ملکی زبان صرف تیسری یا اضافی چوتھی زبان کے طور پر اختیار کرنے کی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: خان سر کی گرفتاری پر روک، پٹنہ کورٹ سے بڑی راحت، اگلی سماعت 30 جون کو
بورڈ نے واضح کیا ہے کہ تیسری زبان (آر 3) کے لیے دسویں جماعت میں کوئی بورڈ امتحان نہیں لیا جائے گا اور اس کی جانچ مکمل طور پر اسکول کی سطح پر ہوگی۔ تاہم اس مضمون کی کارکردگی سی بی ایس ای کے سرٹیفکیٹ میں درج کی جائے گی۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ پہلے ہی ایک عرضی پر نوٹس جاری کر چکا ہے اور اب نئی درخواست کے بعد اس پالیسی پر قانونی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

