ETV Bharat / bharat

سرکاری اسکول میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخلے اور اساتذہ کو دھمکانے کا الزام، ابھیجیت ڈپکے کے خلاف ایف آئی آر

الزام ہے کہ ڈپکے نے اسکول میں جاری کارروائی کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

ابھیجیت ڈپکے کے خلاف ایف آئی آر
ابھیجیت ڈپکے کے خلاف ایف آئی آر (File/ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 22, 2026 at 8:39 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

لاتور : مہاراشٹر کے ضلع لاتور میں سرکاری اسکولوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے جاری مہم کے دوران مبینہ طور پر ایک سرکاری اسکول میں بغیر اجازت داخل ہونے، سرکاری کام میں خلل ڈالنے اور اساتذہ کو دھمکانے کے الزام میں کاکروچ جنتا پارٹی کے کنوینر ابھیجیت ڈپکے اور دیگر افراد کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ ایف آئی آر اوسہ پولیس اسٹیشن میں ضلع پریشد اردو اسکول کی 53 سالہ ٹیچر سید شمشاد بانو خیرت علی کی شکایت پر درج کی گئی۔ ابھیجیت ڈپکے گزشتہ کچھ عرصے سے وسطی مہاراشٹر کے لاتور ضلع میں سرکاری اسکولوں کا دورہ کرکے وہاں بنیادی سہولیات اور تعلیمی انتظامات سے متعلق مسائل کو اپنی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت اجاگر کررہے ہیں۔

شکایت کے مطابق مبینہ واقعہ اوسہ کے قریب واقع جواڑی کی ضلع پریشد اردو اسکول میں پیش آیا۔ الزام ہے کہ ابھیجیت ڈپکے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بغیر اجازت اسکول کے احاطے میں داخل ہوئے اور طلبا کے درمیان بیٹھ کر ان سے مختلف سوالات کیے۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ اس دوران اسکول کے معمول کے تعلیمی اور سرکاری امور میں خلل پیدا ہوا۔

مزید الزام ہے کہ ڈپکے نے اسکول میں جاری کارروائی کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ پولیس کو دی گئی شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈپکے نے اسکول کے بارے میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کے دورے کے وقت کسی دوسرے اسکول کے طلبا کو لاکر کلاس رومز میں بٹھایا گیا تھا۔ شکایت کے مطابق انہوں نے اساتذہ کو معطل کروانے کی دھمکی بھی دی۔

پولیس نے شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 132، 329(3)، 351(2) اور 356(2) کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان دفعات میں سرکاری ملازم کو اس کی ذمہ داری ادا کرنے سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال، مجرمانہ طور پر داخل ہونا، دھمکی دینا اور مجرمانہ ہتک عزت سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کی مکمل جانچ کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگست میں مانسون معمول سے کم، کچھ علاقوں میں سیلاب اور خشک سالی، موسم کے بارے میں مزید جانیں

ابھیجیت ڈپکے اور ان کے ساتھی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں سرکاری اسکولوں کا دورہ کررہے ہیں۔ اس مہم کے دوران اسکولوں کی عمارتوں، بنیادی سہولیات، طلبا کے لیے دستیاب وسائل اور تعلیمی انتظامات کی صورتحال کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم موجودہ معاملے نے سرکاری اداروں کے معائنے اور اسکول انتظامیہ کی اجازت کے درمیان توازن سے متعلق سوالات بھی پیدا کردیئے ہیں۔ اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کے دوران کسی بھی بیرونی فرد کے داخلے، طلبا سے براہ راست بات چیت یا ویڈیو ریکارڈنگ کے معاملے میں مقررہ ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔