کووڈ ویکسین ساز اداروں کو دی گئی سرکاری رقم کی تفصیلات دستیاب نہیں!
کمیشن کے مطابق اپیل کو نمٹانے سے قبل محکمہ کیجانب سے معلومات کی عدم دستیابی کے دعوے کو ریکارڈپر رکھنے کےلیے حلف نامہ ضروری ہے۔

Published : January 7, 2026 at 8:37 PM IST
نئی دہلی: مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) نے محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ حلف نامہ داخل کر کے اس بات کی تصدیق کرے کہ کووڈ-19 وبا کے دوران ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو دی گئی سرکاری مالی امداد سے متعلق معلومات اس کے پاس موجود نہیں ہیں۔
یہ ہدایت مہاویر سنگھ شرما کی جانب سے دائر کردہ حقِ معلومات (آر ٹی آئی) اپیل کی سماعت کے دوران دی گئی۔ شرما نے اپنی درخواست میں حکومت ہند کی جانب سے 2020 اور 2021 کے دوران سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور بھارت بایوٹیک کو دیے گئے ہزاروں کروڑ روپے کے فنڈز سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں۔
ڈی پی آئی آئی ٹی نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ مطلوبہ معلومات اس کی لاجسٹکس ڈویژن کے پاس دستیاب نہیں ہیں اور اس لیے انہیں ’NIL‘ تصور کیا جائے۔ بعد ازاں فرسٹ اپیلیٹ اتھارٹی نے بھی اسی جواب کو برقرار رکھا۔
مرکزی اطلاعاتی کمشنر خوشونت سنگھ سیٹھی نے اپنے حکم میں کہا کہ اگرچہ محکمہ کا جواب بادی النظر میں درست ہے، تاہم شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈی پی آئی آئی ٹی ایک باقاعدہ حلف نامہ داخل کرے، جس میں واضح طور پر کہا جائے کہ 6 اکتوبر 2023 کی آر ٹی آئی درخواست میں مانگی گئی معلومات اس کے پاس موجود نہیں ہیں۔
کمیشن نے ہدایت دی کہ یہ حلف نامہ 15 دن کے اندر ڈاک کے ذریعے اور سی آئی سی کے کمپلائنس پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے، اور اس کی ایک کاپی درخواست گزار کو بھی فراہم کی جائے۔ آر ٹی آئی درخواست میں شرما نے سوال کیا تھا کہ آیا حکومت ہند کی جانب سے بغیر بینک گیارنٹی کے دی گئی 4,500 کروڑ روپے کی رقم واپس لی گئی، یا اس کے عوض ویکسین کی خوراکیں فراہم کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کووی شیلڈ ویکسین لگوانے والوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں: ڈاکٹر ستیم راج ونشی - COVISHIELD VACCINE
انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا تھا کہ بیرون ملک بھیجی گئی ویکسین کی تفصیلات، حکومت کو موصول ہونے والی خوراکوں کا ریکارڈ، مجموعی اخراجات اور یہ کہ آیا تمام بھارتی شہریوں کو کووی شیلڈ اور کو ویکسین لگائی گئی یا نہیں۔ سماعت کے دوران ڈی پی آئی آئی ٹی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ آر ٹی آئی درخواست ابتدا میں محکمۂ بایوٹیکنالوجی کے پاس دائر کی گئی تھی، جہاں سے اسے منتقل کیا گیا، تاہم مطلوبہ معلومات ان کے پاس موجود نہیں ہیں۔

