بلڈوزر کارروائی کا خوف: دہلی کی خواتین راہل گاندھی کو راکھی باندھنے پہنچ گئیں، مدد کی اپیل
خواتین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ان کے سامنے رہائش اور روزگار دونوں کا سنگین بحران پیدا کردیا ہے۔

Published : August 29, 2026 at 2:24 PM IST
نئی دہلی : رکشا بندھن کے موقع پر دہلی ریس کورس کے قریب واقع بی آر کیمپ کی متعدد خواتین ممکنہ انہدامی کارروائی کے خدشے کے باعث اپنے گھروں اور مستقبل کو بچانے کی اپیل لے کر کانگریس ہیڈکوارٹر پہنچ گئیں۔ خواتین نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کرکے اپنی مشکلات ان کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ خواتین اپنے ساتھ راکھیاں اور پوجا کی تھالیاں بھی لے کر پہنچی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ راہل گاندھی سے اپیل کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ان کے معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں اور ممکنہ بے دخلی اور گھروں کے انہدام سے انہیں بچانے میں مدد کریں۔
احتجاج میں شریک شگفتہ نے کہا کہ وہ راہل گاندھی سے ملاقات کے لیے راکھیاں اور پھولوں کی تھالی لے کر آئی ہیں اور ہر ممکن طریقے سے ان سے اپنے گھروں کو بچانے کی اپیل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق ریس کلب کے حکام نے ان کے گھروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور انہیں مبینہ طور پر تقریباً ڈیڑھ ماہ کے اندر مکان خالی کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ خواتین کا دعویٰ ہے کہ اگر انہوں نے رضاکارانہ طور پر جگہ خالی نہ کی تو بلڈوزر کے ذریعے تعمیرات منہدم کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
خواتین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ان کے سامنے رہائش اور روزگار دونوں کا سنگین بحران پیدا کردیا ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ گھروں کے انہدام کی صورت میں ان کے خاندان بے گھر ہوجائیں گے اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوگی۔ متاثرہ خواتین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر موجودہ مکانات خالی کرانا ناگزیر قرار دیا جاتا ہے تو انہیں قریبی علاقے میں مناسب متبادل رہائش فراہم کی جائے، تاکہ ان کے خاندان بے گھر نہ ہوں اور بچوں کی تعلیم اور روزگار کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: مسافروں میں خوشی کی لہر، ریلوے نے آج سے بڈگام-کٹرا ٹرین سروس دوبارہ شروع کر دی
خواتین نے امید ظاہر کی کہ راہل گاندھی ان کی بات سنیں گے اور غریب خاندانوں کے مسئلے کو مناسب پلیٹ فارم پر اٹھائیں گے۔ بی آر کیمپ کے معاملے نے ایک مرتبہ پھر دہلی کے پوش علاقوں کے قریب قائم کچی آبادیوں اور دیگر رہائشی بستیوں سے متعلق بے دخلی، انہدام اور بازآبادکاری کے سوال کو نمایاں کردیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی مختلف مواقع پر غریبوں کے رہائشی حقوق اور مناسب بازآبادکاری کا معاملہ اٹھاتی رہی ہیں۔

