سپریم کورٹ کے فیصلے سے مارگدرشی صارفین میں اطمینان، دہائیوں پرانا اعتماد مزید مضبوط
صارفین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان میں پائی جانے والی الجھن ختم ہوگئی اور مارگدرشی پر ان کا بھروسہ مزید مضبوط ہوگیا۔

Published : August 21, 2026 at 8:43 PM IST
حیدرآباد / امراوتی / راجمنڈری : مارگدرشی کے طویل عرصے سے صارفین اور جمع کنندگان نے سپریم کورٹ کی جانب سے سابق رکن پارلیمنٹ وندولی ارون کمار کی جانب سے مارگ درشی فائنانسیئرز کے خلاف دائر درخواست خارج کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ کئی صارفین نے عدالت کے فیصلے کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ برسوں سے جاری قانونی تنازع کے باوجود ان کا ادارے پر اعتماد برقرار رہا۔
متعدد صارفین کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان میں پائی جانے والی کئی سالہ بے یقینی ختم ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ الزامات اور قانونی کارروائیوں کے باوجود مارگدرشی میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھتے رہے، کیونکہ ان کے ذاتی تجربے میں انہیں ضرورت کے وقت چٹ کی رقم، سود اور جمع شدہ رقوم حاصل ہوتی رہی ہیں۔

وجے واڑہ کی سدھارتھا اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے ڈین آف ایڈمیشنز جی این سوامی نے بتایا کہ ان کا مارگدرشی سے تعلق 1993 میں اس وقت شروع ہوا جب وہ ماہانہ صرف 2 ہزار روپے کماتے تھے۔ انہوں نے ابتدا میں ایک چٹ اسکیم میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں حاصل ہونے والی رقم مارگدرشی میں 18 فیصد سود پر جمع کرائی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع کو مزید چٹ اسکیموں میں استعمال کیا۔
سوامی کے مطابق گزشتہ 33 برس کے دوران مارگدرشی میں ان کی بچت نے انہیں تین پلاٹ خریدنے اور اپنے بچوں کی شادیوں کے اخراجات پورے کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’اپنے ہی خاندان کی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارے پر ان کا اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوا۔

ریٹائرڈ اریگیشن ایگزیکٹیو انجینئر نیڈونوری کرشنا راؤ نے بتایا کہ وہ 1973 سے مارگدرشی کے صارف ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی تنخواہ کی رقم ادارے میں جمع کراتے تھے اور ماضی میں انہیں 18 فیصد تک سود بھی حاصل ہوتا تھا۔ کرشنا راؤ نے بتایا کہ بعض صارفین نے مارگدرشی سے متعلق الزامات کے بارے میں وندولی سے سوالات بھی کیے تھے۔
ان کے مطابق وندولی نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ان معاملات کی تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں۔ کرشنا راؤ نے کہا کہ وہ آج بھی مارگدرشی کی چٹ اسکیموں میں حصہ لیتے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو قابلِ تعریف قرار دیا۔

ریٹائرڈ سب انسپکٹر چگورپتی سبا راؤ نے بتایا کہ ان کا مارگدرشی سے تعلق تقریباً 40 برس پرانا ہے۔ وہ اپنی بچت فکسڈ ڈپازٹس میں رکھتے اور اس سے حاصل ہونے والے ماہانہ سود سے چٹ کی قسطیں ادا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب صارفین کو مالی مشکلات کا سامنا ہوتا تھا تو مارگدرشی انہیں ایک سلپ جاری کرکے اپنی رقم نکالنے کی اجازت دیتا تھا۔ سبا راؤ کے مطابق جن صارفین نے ادارے پر اعتماد کیا، انہیں اب پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حیدرآباد کے 72 سالہ راگھویندر راؤ نے بتایا کہ وہ تقریباً 1979 سے مارگدرشی میں بچت کررہے ہیں۔ ان کے مطابق ادارے میں جمع رقم نے انہیں فلیٹ خریدنے اور مکان تعمیر کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ چند برس قبل جب سیاست دانوں نے مارگدرشی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا تو انہوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے راگھویندر راؤ نے اسے ’’درست فیصلہ‘‘ قرار دیا۔

راجمنڈری کی ریٹائرڈ ملازمہ کاسم نینی جھانسی رانی نے بتایا کہ ان کے خاندان کا مارگدرشی سے تعلق تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے۔ ان کے مطابق ان کے خاندان نے مارگدرشی کی متعدد چٹ اسکیموں میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں ابتدا ہی سے ادارے پر 100 فیصد اعتماد رہا ہے۔‘‘ جھانسی رانی نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ مارگدرشی کے خلاف پھیلائی جانے والی ان باتوں پر یقین نہ کریں جنہیں وہ ’’جھوٹا پروپیگنڈا‘‘ قرار دیتی ہیں۔

حیدرآباد کے ریٹائرڈ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) ملازم سائی پربھاکر نے بتایا کہ ان کا مارگدرشی سے تعلق ان کے اسکول کے زمانے سے ہے۔ ان کے مطابق ان کے والد انہیں ہر ماہ 50 روپے دیتے تھے تاکہ وہ چٹ کی قسط ادا کرسکیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی بچت نے انہیں امیرپیٹ میں مکان تعمیر کرنے میں مدد دی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے پروویڈنٹ فنڈ، لیو انکیشمنٹ اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد کی رقم بھی مارگدرشی کی چٹ اسکیموں میں سرمایہ کاری کی۔

وجے واڑہ کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر بی سبا راؤ نے بتایا کہ انہوں نے 1995 سے اب تک مارگدرشی کی 18 چٹ اسکیموں میں حصہ لیا ہے اور چٹ کی بولی لگاتے وقت انہیں کبھی کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے ابتدا میں 5 لاکھ روپے کی چٹ اسکیم میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد 10 لاکھ روپے کی چٹ میں بھی حصہ لیا۔ 2001 میں انہوں نے اپنی ایسوسی ایشن کے فنڈز بھی مارگدرشی میں جمع کرائے۔ ڈاکٹر سبراؤ کے مطابق نیلامی کے بعد رقم کی بروقت ادائیگی ان وجوہات میں شامل رہی جن کی وجہ سے ان کا ادارے پر اعتماد برقرار رہا۔

حیدرآباد کی ریٹائرڈ ایس بی آئی منیجر اندراوانی نے بتایا کہ ان کے خاندان کا مارگدرشی سے تعلق ان کے والد کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔ ان کے مطابق مشکل مالی حالات میں مارگدرشی نے ان کے خاندان کی مدد کی اور ادارے کے ملازمین کا رویہ اور دیانت داری بھی ان کے اعتماد کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرزِ عمل نے ان کے خاندان میں ادارے کے تئیں اعتماد پیدا کیا اور اب یہ اعتماد اگلی نسل تک منتقل ہورہا ہے۔
معاملہ کیا تھا؟
مارگ درشی فائنانسیئرز کے خلاف قانونی تنازع تقریباً دو دہائیوں سے جاری تھا۔ 23 جنوری 2008 کو متحدہ آندھرا پردیش کی اُس وقت کی حکومت نے مارگدرشی فائنانسیئرز اور سری راموجی راؤ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ الزام تھا کہ ادارے نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوام سے ڈپازٹس قبول کیے۔ اس کے بعد مارگدرشی نے ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مقدمہ ختم کرنے کی درخواست کی۔
31 دسمبر 2018 کو ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کو ختم کردیا۔ عدالت نے اس وقت نوٹ کیا تھا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں کسی جمع کنندہ نے شکایت نہیں کی تھی اور ادارے نے جمع کنندگان کی رقم واپس کرنے کے لیے اقدامات کیے تھے۔ ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارگدرشی کی جمع شدہ رقم میں خردبرد کرنے کی کوئی بدنیتی پر مبنی نیت نہیں تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق رکن پارلیمنٹ وندولی ارون کمار اور وائی ایس جگن موہن ریڈی کی زیر قیادت آندھرا پردیش حکومت نے دسمبر 2019 میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 9 اپریل 2024 کو سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ تلنگانہ ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ اخبارات میں عوامی نوٹس جاری کرکے ایسے جمع کنندگان سے دعوے طلب کرے جنہیں مبینہ طور پر ان کی رقم واپس نہیں ملی۔
عدالت نے کہا تھا کہ اس عمل سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا کوئی حقیقی دعویٰ باقی ہے اور آیا اس معاملے میں کسی بدنیتی کا عنصر موجود تھا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ نے عوامی نوٹس جاری کیے اور ان افراد سے دعوے طلب کیے جنہیں اپنی رقم واپس نہ ملنے کی شکایت ہو۔ تاہم کسی بھی صارف نے اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا۔
قانونی کارروائی کے دوران مارگدرشی فینانس کے چیرمین شری راموجی راؤ کا 8 جون 2024 کو انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد مارگ درشی نے عدالت سے فوجداری کارروائی ختم کرنے کی درخواست کی۔ ادارے کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں مقدمے کو جاری رکھنا قانونی طور پر قابلِ جواز نہیں رہا۔ 4 اگست 2025 کو تلنگانہ ہائی کورٹ نے مارگدرشی کے خلاف فوجداری کارروائی ختم کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ’کوئی جواز نہیں‘: سپریم کورٹ نے مارگادرشی کے خلاف درخواست خارج کردی
وندولی ارون کمار نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے 19 دسمبر 2025 کو سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست دائر کی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا اور وندولی ارون کمار کی درخواست خارج کردی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی مارگدرشی کے خلاف تقریباً دو دہائیوں سے جاری قانونی تنازہ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ دوسری جانب مارگ درشی کے کئی پرانے صارفین نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ذاتی تجربات نے ادارے پر ان کے اعتماد کو ہمیشہ مضبوط رکھا۔

